The news is by your side.

Advertisement

سری لنکن پولیس نے غلطی سے امریکی خاتون کو حملہ آور بنا دیا

کولمبو : سری لنکن پولیس نے ایسٹر دھماکے کی تحقیقات کے دوران غلطی سے امریکی خاتون کو گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں شدت پسندانہ کارروائیاں کرنے والا حملہ آور بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ کی رہنے والی عمارہ مجید کے لیے جمعہ کی صبح ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھی جب انہوں نے انٹرنیٹ پر ہر طرف اپنی تصویر دیکھی جس میں سری لنکن پولیس نے ان کو اتوار کو گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے چھ شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عمارہ مجید نے فوری طور پر اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کا سہارا لیا اور ٹویٹ کیا کہ مجھے آج صبح سری لنکن پولیس نے جھوٹ بولتے ہوئے داعش کے ان دہشت گردوں میں سے ایک قرار دیا ہے جنہوں نے ایسٹر کے موقع پر حملے کیے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ ’کیا ہی چیز ہے جاگنے پر دیکھنے کے لیے‘ عمارہ مجید نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے ایک اور ٹویٹ کیا جس میں سری لنکن پولیس کی جانب سے ان سے معافی مانگنے کی تصویر بھی منسلک کی۔

سری لنکا حملے: خود کش حملہ آور کا برطانیہ و آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کا انکشاف

خیال رہے کہ سری لنکن پولیس ذرایع نے بھی کہا ہے کہ حملہ آوروں میں سے دو کا تعلق کولمبو کے ایک دولت مند تاجر کے گھرانے سے تھا، ان دو بھائیوں نے دو الگ ہوٹلوں پر حملے کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  انٹرپول کا سری لنکا میں دھماکوں کی تحقیقات کیلئے ماہرین بھیجنے کا اعلان

سری لنکا کے وزیر اعظم نے حملوں سے متعلق مؤقف ظاہر کیا ہے کہ ایسے حملے بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہیں، داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن شواہد نہیں دیے۔

سری لنکن صدر نے ملک کی سیکورٹی کی مکمل تعمیر نو کا عندیہ بھی دیا ہے، دفاعی فورسز کے سربراہان تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا میں تین روز کا سوگ منایا جا رہا ہے، ایسٹر کے موقع پر ہونے والے سری لنکا دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 359 ہو گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں