The news is by your side.

Advertisement

امریکا اور برطانیہ روس کے مدمقابل متحد

واشنگٹن: وائٹ ہاوس سے بیان جاری ہوا ہے کہ امریکا اپنے سب سے قریبی اتحادی برطانیہ سے اظہار یکجہتی اور برطانوی حکومت کی جانب سے روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کی بھرپورحمایت کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں مقیم سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہریلے کیمیکل کے ذریعے قتل کرنے کا الزام برطانوی حکومت نے روس پر لگایا تھا اور 13 مارچ تک جواب نہ دینے کی صورت میں سخت رد عمل کا عندیہ بھی دیا تھا۔

وائٹ ہاوس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے سب سے قریبی اتحادی برطانیہ سے ’اظہار یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے‘اور برطانوی حکومت کی جانب 23 روسی سفارت کاروں کو نکالے جانے کے اقدام کی بھرپور حمایت بھی کرتا ہے۔

برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مئے نے کہا ہے کہ روسی سفارت کاروں کو حکام کی جانب سابق جاسوس کے قتل میں استعمال ہونے والے اعصاب شکن روسی کیمیکل کی وضاحت دینے سے انکار پر نکالا گیا ہے۔

جبکہ روس نے برطانیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوابی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ روس دنیا کے تمام ممالک کی سلامتی اور سیکیورٹی کو نظر انداز کررہا ہے۔

سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور بیٹی یولیا اسکریپال

اسی دوران امریکی سیکریٹری خارجہ بوریس جونسن کا کہنا تھا کہ جس طرح سے برطانیہ میں جاسوس کی موت ہوئی ہے یہ طریقہ واردات روس کا ہے، اور روسی حکومت نے اس حملے سے اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والے لوگوں کو پیغام دیا کہ جو بھی روس کے خلاف آواز اٹھائے گا اس کا یہ ہی انجام ہوگا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے عہدےدار کا کہنا ہے کہ اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے امریکا کی جانب سے برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے کو مدد کےلیے کی جانے والی پیشکش غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا یہاں اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے روس کے لیے جس طرح کا لہجہ اور زبان استعمال کی ہے وہ اس سے پہلے کبھی وائٹ ہاوس میں نہیں سنی گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا سیکریٹری نے سارا سینڈر کا کہنا ہے کہ امریکا کو یقین دلایا جائے کہ’ اس طرح کے حملے دوبارہ نہیں ہونے چاہیے‘اور برطانیہ کا روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا’روسی اقدامات کا رد عمل ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ’روس کا حالیہ رویہ اس بات کو واضح کررہا ہے کہ روس عالمی قوانین کی خلاف کررہا ہے اور دنیا کے تمام ممالک کی سلامتی اور سیکیورٹی کو مستقل نظر انداز کررہا ہے۔ روس کی جانب سے سابق جاسوس کے خلاف کیا گیا اقدام مغربی جمہوریت کی بے حرمتی ہے‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے برطانوی شہرسالسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر23 روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے گزشتہ دنوں 63 سالہ سابق روسی ملٹری انٹیلیجنس آفیسر اور ان کی بیٹی کو برطانیہ کے شہر سالسبری کے سٹی سینٹرمیں ایک بینچ پرتشویش ناک حالت میں پایا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں