The news is by your side.

Advertisement

نسل پرستی اور مذہبی منافرت، امریکی مسلمانوں کو جہاز سے اتار دیا گیا

کیلی فورنیا: امریکی فضائی کمپنی نے طیارے میں سوار دو مسلمان مسافروں کو نسل پرستی کا نشانہ بنا کر جہاز سے اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا سے تعلق رکھنے والے مسلمان شہری عبداللہ کا کہنا تھا کہ فضائی کمپنی نے مجھے تحفظ اور سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پرواز منسوخ کی اور جہاز سے باہر نکال دیا۔

عبداللہ کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ’’نسل پرستی کا سامنا کرنا میری زندگی کا سب سے زیادہ خوفناک اور ذلت آمیز دن تھا، اس اقدام سے میں اور میرا خاندان بے حد دباؤ کا شکار ہے، یہی وجہ سے ہے اب مجھے نیند نہیں آتی، اس حرکت میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عبدالرؤف الخلوالدے اور عبداللہ (دونوں) مسافر علیحدہ علیحدہ پروازوں سے ڈیلاس پہنچے، جیسے ہی فلائٹ الباما اور پھر ڈیلاس پہنچی تو دونوں کے درمیان گفتگو کا آغاز ہوا۔

انتظامیہ نے شک کی بنیاد پر جہاز کو روکا اور اعلان کیا کہ تکنیکی مسئلے کی وجہ سے پرواز تاخیر کا شکار ہوگی، اسی دوران عبداللہ نامی مسافر باتھ روم چلا گیا، جب اُس نے دروازہ کھولا تو بالکل سامنے ایک اہلکار کھڑا تھا جس نے اندر جاکر تلاشی لی

عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’’اہلکار کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا پھر اُس نے جس انداز سے گفتگو کی اور پوچھ گچھ شروع کی تو مجھے شدید صدمہ پہنچا اور میں چپ چاپ اپنی نشست پر چلایا گیا‘‘۔

’’بعد ازاں ایئرہوسٹس نے پرواز منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور پھر ہمارے پاس ایک سیکیورٹی اہلکار آیا جس کے بارے بارے تفتیش کی اور چلا گیا، جب ہم ہوائی اڈے پر کافی پینے اترے تو پولیس نے ہم پر نظر رکھی ہوئی تھی، وہ ہمارا مسلسل تعاقب کررہے تھے جس سے گمان ہورہا تھا کہ شاید ہم نے کوئی جرم کردیا‘‘۔

عبداللہ کے مطابق ’’اگلی فلائٹ میں بیٹھتے ہی ایک شخص ہمارے پاس آیا اور اُس نے اپنا تعارف ایف بی آئی ایجنٹ کی حیثیت سے کرا کر ساتھ چلنے کا کہا اور عملے کو ہدایت کی کہ وہ ہمارا سامان دوبارہ چیک کریں‘‘۔

مسافر عبداللہ کے مطابق جب میں نے جب سیکیورٹی عملے اور افسر سے پوچھا کہ اُن کی تضحیک کیوں کی جارہی ہے تو جواب ملا کہ میں نے ٹوائلٹ میں دو بار پانی بہا کر آیا تھا، جب میں مطمئن کرنے کے بعد باہر نکلا تو دیکھا سیکیورٹی روم کے باہر فوجی، پولیس اور کتے موجود ہیں، پھر مجھے اندازہ ہوا کہ مذہب کی وجہ سے امتیازی سلوک اور نسل پرستی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ ’’میں 10 لاکھ میل سے زیادہ مسافت کا سفر کرچکا ہوں، سیکیورٹی اداروں کو عام شہری اور دہشت گردوں کے درمیان تمیز کرنے کی تربیت دینا ضروری ہے، اس اقدام سے میرا وقار مجروح ہوا جس کی ذمہ داری ائیرلائن پر عائد ہوتی ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں