The news is by your side.

امریکا، قرض واپس نہ کرنے پر ٹیکنالوجی کمپنی کا سی ای او ملازم کے ہاتھوں قتل

نیویارک: امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کو قرض واپس نہ دینے پر ملازم نے قتل کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ منگل کو نیویارک کے ایک گھر سے ٹکڑوں کی صورت میں لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت فہیم صالح کے نام سے ہوئی جو معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او تھے۔

نیویارک پولیس کا کہنا تھا کہ 33 سالہ فہیم صالح  کے والدین کا  تعلق بنگلا دیش سے تھا، وہ مین ہٹن اپارٹمنٹ میں مقیم تھے اور وہیں سے اُن کی لاش ٹکڑوں کی حالت میں ملی۔

پولیس حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اُٰسی کمپنی کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ ٹائریس ہاسپل کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔

مزید پڑھیں:کراچی، قرض‌ کا تقاضا کرنے پر نوجوان قتل

پولیس کا کہنا ہے کہ فہیم صالح ہزاروں ڈالر کا مقروض تھے انہوں نے ملازمین سے بھی پیسے لیے ہوئے تھے جو وہ واپس نہیں کررہے تھے، اب ایک اسسٹنٹ نے انہیں غصے میں آکر قتل کردیا۔

پولیس حکام کے مطابق فہیم صالح نائیجیریا اور بنگلادیش میں آن لائن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی کام کررہے تھے۔

محکمہ پولیس کے سربراہ ڈیکٹو روڈنی ہیرسن نے بتایا کہ ’مسٹر ہاسپیل نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ رقم واپسی نہ کرنے پر اُس نے چاقو کے وار سے صالح کو قتل کیا اور پھر لاش کے ٹکڑے بھی کیے‘۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ‘(ملزم مسٹر صالح کے) مالی اور ذاتی معاملات کو دیکھتا تھا، مرنے والے شخص کو قرض کی بڑی رقم ادا کرنا تھی’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں