The news is by your side.

Advertisement

امریکی صدارتی انتخابات : مختلف ریاستوں کے نتائج، جوبائیڈن ٹرمپ سے آگے

واشنگٹن : امریکا میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں مختلف ریاستوں سے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، تازہ ترین اطلاعات میں اب تک جوبائیڈن کی پوزیشن ٹرمپ سے بہتر ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اب تک ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن نےمجموعی طور پر 238 الیکٹورل ووٹ حاصل کرلیے، جبکہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے213الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ریاست کنساس ٹرمپ کے نام رہی انہوں نے6 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے، ریاست میزوری میں ٹرمپ نے10الیکٹورل ووٹ حاصل کیے، امریکی ریاست مین میں جوبائیڈن کامیاب ہوئے وہاں انہوں نے ،4الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں میدان مار لیا،29 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ انڈیانا، اوکلاہاما، مسیسپی، الابامہ، جنوبی کیرولینا،  یوٹا، شمالی ڈکوٹا، جنوبی ڈکوٹا، وایومنگ، کینٹکی، مغربی ورجینیا،میں بھی ٹرمپ کامیاب رہے اس کے علاوہ ٹیکساس، ٹینیسی، جنوبی کیرولینا، میزوری، آرکنساس کی ریاستیں بھی ٹرمپ کے نام ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے مونٹانا اور آئیووا سے بھی کامیابی سمیٹ لی۔

دوسری جانب کیلی فورنیا، واشنگٹن، اوریگن سے جوبائیڈن نے کامیابی سمیٹ لی ہے، جوبائیڈن نے نیو ہیمپشائر،ورجینیا، ورمونٹ اور  نیویارک میں میدان مار لیا جبکہ ایریزونا، کولاراڈو، میساچوسٹس، نیوجرسی، کنیکٹیکٹ میں جوبائیڈن جیت گئے، نیو میکسیکو، میری  لینڈ، مین، الینوائے کی ریاستیں بھی جوبائیڈن کے نام رہیں،صدارتی انتخاب جیتنے کیلئے538میں سے270الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔

امریکی خبر رساں ادار ے کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ نے187نشستیں اور ری پبلکن نے181 نشستیں جیت لیں، سینیٹ میں ڈیموکریٹ 47 اور ری پبلکنز کی 47نشستیں ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان نینسی پلوسی ایک بار پھر جیت گئیں، امریکی ایوان نمائندگان میں مسلم خواتین رہنما بھی کامیاب ہوئی ہیں، الہان عمر اور راشدہ طالب نے بھی کامیابی حاصل کرلی۔

امریکی صدارتی الیکشن میں ووٹنگ کے موقع پر سیکیورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے ہیں، ووٹنگ کی گنتی کے آغاز میں جو بائیڈن کا پلڑا بھاری رہا لیکن پھر مقابلہ سخت اور ٹرمپ کی فتوحات بھی بڑھنے لگیں، تاہم مجموعی طور پر جوبائیڈن کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی میڈیا کی جائزہ رپورٹ

علاوہ ازیں میڈیا کی رائے عامہ جائزہ رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن کو ٹرمپ پر سبقت حاصل ہے، سی این این کی رپورٹ میں کہا  گیا ہے کہ جوبائیڈن207اور ٹرمپ کو105الیکٹورل ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

جوبائیڈن 52فیصد اور ٹرمپ44فیصد ووٹ حاصل کرسکیں گے، این بی سی کے ایگزٹ پول کے مطابق بائیڈن کو51فیصد اور ٹرمپ کو40فیصد ووٹ ملیں گے، فوکس نیوزسروے  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوبائیڈن 52فیصد اور ٹرمپ 44فیصد ووٹ حاصل کرسکیں گے۔

ضروری نہیں زیادہ ووٹ لینے والا ہی صدر منتخب ہو

امریکہ میں یہ ضروری نہیں کہ زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ہی صدر منتخب ہو۔ امریکہ میں گذشتہ 20 برسوں میں دو مرتبہ ایسا ہوا ہے جب زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار الیکشن ہار گیا جبکہ کم پاپولر ووٹ حاصل کرنے والا صدارت کے منصب پر فائز ہوگیا۔

سنہ 2000 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ایلگور نے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار جارج بُش سے اگرچہ پانچ لاکھ 47 ہزار ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے لیکن اس کے باوجود وہ الیکشن نہ جیت سکے۔

اسی طرح 2016 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار اور سابق صدر بِل کلنٹن کی اہلیہ ہیلری کلنٹن نے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے تقریباً 30 لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے تاہم وہ ناکام رہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں