The news is by your side.

Advertisement

رمضان المبارک میں مسلمان زیادہ تر وقت کس کام میں مصروف رہتے ہیںِ؟

سان فرانسسکو : رمضان کی آمد آمد ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں فرزندان اسلام اپنے گناہوں کی مغفرت کیلئے کوشش کرتے ہیں اور مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ایک سروے کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں وسط ایشیائی ممالک کے مسلمان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے رمضان میں اپنے صارفین کے وقت گزارنے سے متعلقاعداد وشمار جاری کیے ہیں، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صارفین رمضان المبارک کے دوران میں 5 کروڑ 76 لاکھ اضافی گھنٹے فیس بُک پر گزارتے ہیں۔

سروے میں کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران صارفین تین شعبوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جبکہ علی الصباح تین بجے فیس بُک پر صارفین کی بھرمار ہوتی ہے۔

پہلا مرحلہ

پہلے مرحلے کے دوران مسلمان رمضان سے قبل ہی کپڑوں کی خریداری کی منصوبہ بندی شروع کردیتے ہیں اور انٹرنیٹ براؤزرز کے بجائے موبائل ایپلی کیشنز پر اپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں جن لوگوں سے سروے کیا گیا ہے،ا ن میں سے 47 فی صد نے بتایا کہ وہ رمضان سے پہلے مہینے میں کپڑوں کی خریداری کی منصوبہ بندی شروع کردیتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ

سروے کے مطابق دوسرے مرحلے میں مسلمان اپنے موبائل فونز کا استعمال زیادہ کر دیتے ہیں اور رمضان المبارک کے دوران اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیو ز پوسٹ کرتے اور اپنے دوستوں سے شیئر کرتے ہیں۔

اس سروے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سال کے دوسرے مہینوں کی نسبت رمضان کے دوران موبائل پر 4.84 فی صد زیادہ گفتگو کی جاتی ہے حالانکہ اس مقدس مہینے میں فضول گفتگو سے پرہیز کی ہدایت کی گئی ہے۔

رمضان المبارک کے دوران باقی دنوں کے مقابلے میں ٹیلی ویژن زیادہ دیکھا جاتا ہے اور خاندان کے افراد اکٹھے بیٹھ کر مختلف ٹی وی شو دیکھتے ہیں، یو اے ای کے 71 % فیس بُک صارفین کا کہنا ہے کہ وہ ٹی وی دیکھتے ہوئے بھی سماجی رابطے کی اس مقبول ویب سائٹ پر مصروف رہتے ہیں۔

تیسرے مرحلہ

رمضان المبارک کے دوران تیسرے اور آخری مرحلے عید کی خریداری کا ہوتا ہے، متحدہ عرب امارات کے 70فیصد رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اپنے دوست احباب اور اہل خانہ کیلئے عید کے تخائف کا انتخاب فیس بک کے زریعے ہی کرتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں