The news is by your side.

Advertisement

خواجہ آصف ن لیگ کے خالی ہونے کا رونا رو رہے ہیں، عثمان ڈار

اسلام آباد : تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی بےچینی اور اضطراب کا سبب جانتے ہیں وہ ن لیگ کے خالی ہونے کا رونا رو رہے ہیں، معلوم تھا کہ ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ کی چیخیں نکلیں گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، خواجہ آصف کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف اپنی جماعت خالی ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔

پی ٹی آئی میں شامل ہونیوالوں نے نوازشریف پر عدم اعتماد کا اعلان کیا، لوگ عمران خان اور پارٹی کے نظریے کو دیکھ کر آرہے ہیں، معلوم تھا ٹکٹوں کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ کی چیخیں نکلیں گی۔

عثمان ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اراکین کی پی ٹی آئی میں شمولیت پارٹی کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس بار عمران خان وزیراعظم ہوگا اور خواجہ آصف ایوان سے باہر ہونگے، خواجہ آصف کا فیصلہ عوام کی عدالت میں لے جارہے ہیں، سیالکوٹ کے عوام خواجہ آصف سے ووٹ کی توہین کا بدلہ لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ نے منظم طریقے سے ٹکٹس کا اعلان کیا ہے، پی ٹی آئی کو تقریباً ساڑھے4ہزار درخواستیں ملی تھیں، سیالکوٹ میں 16 ٹکٹ کیلئے125درخواستیں آئی ہیں، پارٹی میں نئے آنے والوں اور نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے، ٹکٹ نہ ملنے پر دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی شور ہوگا، ٹکٹ جسے نہیں ملتا وہ مایوس اور سمجھتا ہے زیادتی ہورہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عثمان ڈار نے کہا کہ پاکستان کے حکمران کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں، سیاسی جماعتوں میں تمام لوگ کرپٹ نہیں ہوتےاچھے بھی ہوتےہیں، پارلیمانی بورڈ نےایک ایک حلقے کا سروے کرایا گیا ہے، ٹکٹ دینے پرپارلیمانی بورڈ نے اپنی معلومات کو بھی مدنظر رکھاہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی میں وہ لوگ شامل ہورہے ہیں جو ہر الیکشن میں ضمیر بیچتے ہیں، خواجہ آصف

واضح رہے کہ خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں وہ لوگ شامل ہورہے ہیں جو ہر الیکشن میں اپنا ضمیر بیچتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جنہیں گٹرمیں پھینکنا چاہیے تھا، انھیں پی ٹی آئی نے ٹکٹ دے دیئے، آخر میں عمران خان کے ارد گرد سیاسی ورکر نہیں، صرف پیسے والے لوگ ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں