The news is by your side.

Advertisement

خواجہ آصف کےخلاف ٹھوس ثبوت ہیں، کرپشن اورمنی لانڈرنگ بےنقاب کریں گے، عثمان ڈار

لاہور : معاون خصوصی امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا خواجہ آصف کےخلاف میرےپاس ٹھوس ثبوت ہیں، کرپشن اورمنی لانڈرنگ بےنقاب کریں گے، وزیراعظم عمران خان ان کوڈیل تو کیا ڈھیل بھی نہیں دے رہے۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی امور نوجوانان عثمان ڈار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سابقہ ادوار میں منصوبوں کی آڑ میں کرپشن اورمنی لانڈرنگ کی گئی، خواجہ آصف کےخلاف میرے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا ن لیگ نےاپنےدورمیں 480 ارب کاگردشی قرض واپس کیا، سیالکوٹ میں منصوبوں کے لیے 18 سے 20 ارب لیےگئے، سیالکوٹ کاآج حال دیکھیں توایک سڑک سلامت نہیں ہے۔

خواجہ آصف کےخلاف میرےپاس ٹھوس ثبوت ہیں، کرپشن اورمنی لانڈرنگ بےنقاب کریں گے

معاون خصوصی امور نوجوانان نے کہا یو اے ای کی کمپنی ان کو20 لاکھ روپےکس چیز کے دیتی تھی، 20 لاکھ کی تنخواہ لینے والے اس وقت ملک کے وزیر دفاع تھے، 10 سال میں 24 ہزار ارب کے قرض کا کیا کیاگیا۔

ان کا کہنا تھا ہمارے پاس ثبوت ہیں کرپشن اورمنی لانڈرنگ بےنقاب کریں گے، پرویزمشرف کےدورمیں این آراوملتاتھا،اس حکومت میں نہیں ملتا، پرویز مشرف کےدور میں دونوں جماعتوں کوڈیل مل گئی تھی، وزیراعظم عمران خان ان کوڈیل تو کیا ڈھیل بھی نہیں دے رہے۔

وزیراعظم عمران خان ان کوڈیل تو کیا ڈھیل بھی نہیں دے رہے

عثمان ڈار نے کہا وزیراعظم جب بھی پارلیمنٹ آتےہیں روکنےکی کوشش کرتےہیں، ان کی کوشش ہوتی ہےکہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں خطاب نہ کرسکیں، میرے پاس جو بھی ثبوت ہیں وہ انکوائری کمیشن میں پیش کروں گا۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا سابق حکومت کےدورمیں اقامہ کی آڑمیں کرپشن اورمنی لانڈرنگ کی گئی، آج عمران خان کے نئے پاکستان میں کسی کو این آر او نہیں مل رہا۔

انھوں نے مزید کہا وزیراعظم نے ہائی پاورڈ انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا، 10سالوں میں حکومتوں نے24000ارب روپےقرض لیا، ساراقرضہ کہاں گیااس کی تحقیقات کافیصلہ خوش آئندہ ہے، اربوں روپےکہاں گیا تحقیقات سابق وفاقی وزراسےبھی ہونی چاہیے۔

آج عمران خان کےنئےپاکستان میں کسی کواین آراونہیں مل رہا

عثمان ڈار کا کہنا تھا سیالکوٹ میں کوئی یونیورسٹی نہیں بنی،کوئی اسپتال نہیں بنا، قوم جانناچاہتی ہےاربوں روپےکہاں گئے؟ سابق وفاقی وزیر خارجہ کی کرپشن کے ثبوت ساتھ لایاہوں، خواجہ آصف نےگردشی قرضوں کی مدمیں اربوں کہاں خرچ کیے، 480ارب روپےکاگردشی قرضہ کہاں گیا؟۔

معاون خصوصی نے کہا خواجہ آصف کانندی پورپاورپروجیکٹ کاریکارڈکیوں جلایاگیا؟، سیالکوٹ کےلئےترقیاتی اسکیموں کے لئے 18ارب جاری ہوئے، ایک بھی ترقیاتی منصوبہ نہیں لگا، امید ہے کمیشن پوچھےگاخواجہ آصف نے کیسے خورد بردکی۔

ان لوگوں کا ایک ہی ایجنڈاہےہم نےکرپشن کس طرح بچانی ہے

ان کا مزید کہنا تھا ان کاایک ہی ایجنڈاہےہم نےکرپشن کس طرح بچانی ہے، وزیراعظم کوایوان میں خطاب کرنے نہیں دیاجاتا، میں کمیشن کے سامنے تمام ثبوت رکھوں گا، خواجہ آصف کے اوپر جے آئی ٹی بننی چاہیےتھی، خواجہ آصف بیرون ملک کیسے ملازمت کرتےرہے؟ اور پاکستان سے پیسہ غیرملکی اکاونٹس میں کیسے منتقل کیاگیا، اقامہ کی آڑ میں ملک سے پیسہ لوٹ کر منی لانڈرنگ کی گئی۔

مریم نوازکےیوتھ پروگرام کی بھی تفتیش ہونی چاہیے

رہنما پی ٹی آئی نے کہا میرا کیس بنیادی طور پر 62 ون ایف کاتھا، آمدن سے زائد کا کیس تھا، اس کی تفتیش ہونی چاہیے، مریم نواز کے یوتھ پروگرام کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا جو بھی کمیشن بنےگا آئندہ ہفتےتک وجودمیں آجائےگا، قوم ک وپتہ چلناچاہیے آخرکار 24ہزار ارب کیساتھ کیا ہوا، ڈھائی سال پہلےاس معاملے پر نیب گیاتھا ، وزیراعظم عمران خان کے کمیشن کو فائلز دینا چاہتا ہوں۔

عثمان ڈار نے کہا خواجہ آصف سےمیری کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن انھوں نے میرے ملک کونقصان پہنچایا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں