نیویارک(9 جنوری 2026): پاکستان کی کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کردی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کا بنیادی ستون ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے قائم مقام مندوب نے کہا کہ پاکستان شام کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے امور تخفیف اسلحہ (او ڈی اے) کے قائم قام سربراہ ادیدیجی ایبو نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے نئی شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ساتھ تعاون کے عزم کا خیر مقدم کیا ہے جو اقوام متحدہ کا شراکت دار ادارہ ہے۔
انہوں نے شام اور ادارے کے درمیان جاری رابطوں کے بارے میں کونسل کو تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل دمشق کے نواحی علاقوں میں سیرین اعصابی گیس کے حملے میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2118 (2013) منظور کی تھی جس میں ‘او پی سی ڈبلیو’ کے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو تیزی سے تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سیکرٹریٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں اعلان کردہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق 26 مقامات کے علاوہ معلومات کے مطابق مزید 100 سے زیادہ مقامات مبینہ طور پر سابق حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سرگرمیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


