The news is by your side.

Advertisement

اسلام اباد: لڑکا لڑکی تشدد کیس: مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت7 ملزمان پر فردِ جرم عائد

اسلام اباد :سیکٹر ای الیون میں لڑکا لڑکی پر تشدد کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت سات ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی ، ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ای الیون تھانہ گولڑہ کی حدود میں لڑکے لڑکی پرجنسی تشدد کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت عدالت نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت سات ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

اسلام آباد:ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے فرد جرم عائد کی ، فرد جرم عائد ہونے والے دیگر ملزمان میں ریحان،عمر بلال ،محب بنگش،فرحان شاہین اور شریک ملزمان حافظ عطا الرحمن،ادریس قیوم بٹ شامل ہیں۔

ملزمان نےصحت جرم سےانکارکردیا ، فرد جرم کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا ہے اور استغاثہ سےشہادتیں طلب کرلیں گئیں ہیں۔

عدالت نے فرد جرم کی کاپیاں ملزمان کو فراہم کرتے ہوئے پراسیکیوشن کےگواہان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اور گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے گواہوں کو نوٹسز جاری کردیئے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12اکتوبر تک ملتوی کردی۔

گذشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکا لڑکی پر تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے کے معاملے پر بنائے گئے پولیس چالان کے مندرجات سامنے آئے تھے۔

چالان میں کہا گیا تھا کہ عثمان ابرار مرکزی کردار ہے جس نے ساتھیوں سے نازیبا ویڈیو بنوائی، ملزمان نے لڑکا لڑکی کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کیا بعد ازاں دونوں سے بھتہ کی رقم وصول کی۔

گرفتار ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا تھا کہ عثمان کے کہنے پر متاثرین سے سوا 11 لاکھ روپے وصول کیے، جس میں سے چھ لاکھ عثمان کو دئیے اور باقی دیگر ساتھیوں میں تقسیم کیے۔

چالان میں کہا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کرائے، جنہیں پولیس چالان کا حصّہ بنایا گیا جبکہ متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے رہے اور ہمیں برہنہ کرکے ہماری ویڈیو بناتے رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں