ممبئی(11 فروری 2026): بھارتی اسپنر روی چندرن ایشون نے ورلڈ کپ میں پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر تنقید کا بھرپور دفاع کیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا کے خلاف میچ کے دوران پاکستانی اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب ایک بھارتی کرکٹر نے ان پر سخت تنقید کی، تاہم بھارتی ٹیم کے مایہ ناز اسپنر روی چندرن ایشون نے اس تنقید کا بھرپور جواب دیتے ہوئے عثمان طارق کا دفاع کیا ہے۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارتی ڈومیسٹک کھلاڑی اور کمنٹیٹر شری واستو گوسوامی نے سوشل میڈیا پر عثمان طارق کی ویڈیو شیئر کی۔ انہوں نے طارق کے بولنگ کے دوران رکنے کے انداز کو فٹ بال کے پنالٹی کک سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے اور سوال اٹھایا کہ ایک بولر ڈلیوری کے دوران اس طرح کیسے رک سکتا ہے۔
روی چندرن ایشون نے اس پر براہ راست جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ فٹ بال سے مختلف کھیل ہے۔ اشون نے دلیل دی کہ جب ایک بیٹر کو امپائر یا بولر کو آگاہ کیے بغیر سوئچ ہٹ یا ریورس شاٹ کھیلنے کی آزادی حاصل ہے، تو پابندیاں صرف بولر پر کیوں عائد کی جاتی ہیں؟
Agree football doesn’t allow it!
While the batter can be allowed to switch hit or reverse without informing the umpire or bowler, after him/her commits to start batting on one side, why are the restrictions only limited to the bowler?
In fact the bowler isn’t allowed to change… https://t.co/AOV4OKhwcL
— Ashwin (@ashwinravi99) February 11, 2026
ایشون نے سوال کیا کہ قوانین صرف بولرز کے لیے ہی اتنے سخت کیوں ہونے چاہئیں؟ ایشون نے مزید وضاحت کی کہ بولنگ ایکشن کی قانونی حیثیت کا فیصلہ صرف آئی سی سی کے ٹیسٹنگ سینٹرز کر سکتے ہیں اور قانون کے مطابق کہنی کو 15 ڈگری تک موڑنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عثمان طارق کا بولنگ کے دوران معمولی سا رکنا قوانین کے عین مطابق ہے۔
واضح رہے کہ اس تنازع کے باوجود عثمان طارق نے میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور امریکا کے خلاف میچ میں تین قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


