The news is by your side.

Advertisement

افسانوی شہرت کے حامل بابا علاؤ الدین کا تذکرہ

بابا علاؤ الدین افسانوی شہرت کی حامل ہیں۔ ایک دور تھا جب دنیا بھر میں ان کے فن کا چرچا ہوا اور وہ موسیقی کے استاد مانے گئے۔ انھیں سُروں کا ماہر اور راگنیوں کا بہترین شناسا کہا جاتا تھا۔

کم عمری میں ہی علاؤ الدین کو موسیقی اور سازوں میں دل چسپی پیدا ہو گئی تھی۔ گیتوں، راگ راگنیوں اور سازوں میں یہ دل چسپی اور شوق چند برس بعد جنون میں ڈھل گیا۔

نوجوانی میں انھوں نے سُر اور ساز سے ایسا ناتا جوڑا کہ پھر تمام عمر اسی کے نام کر دی۔ اپنے ہنر میں یکتا اور منفرد علاؤ الدین کو دنیائے موسیقی نے ‘‘استاد’’ تسلیم کیا۔ شاگردوں اور عقیدت مندوں میں جلد ہی بابا علاؤ الدین کے نام سے مشہور ہوگئے۔

انھوں نے وہ افسانوی شہرت حاصل کی کہ عام لوگ ہی نہیں اپنے وقت کی مشہور اور نام وَر شخصیات راجا، سلاطینِ وقت، امرا و درباری ان سے ملاقات کی خواہش مند رہے اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھا۔

اس عظیم موسیقار نے 1862 میں بھارت کے شہر تریپورہ میں آنکھ کھولی۔ موسیقی کے اَسرار و رموز سیکھنے کے لیے سُر اور سنگیت کی دنیا کے نام وروں کے پاس بیٹھے اور ان کے علم سے بھرپور استفادہ کیا۔ بابا علاؤ الدین نے طویل عمر پائی۔ ان کا انتقال 1972ء میں 110 سال کی عمر میں ہوا۔

برصغیر کا روایتی ساز ’سرود‘ بابا علاؤ الدین کا پسندیدہ تھا۔ اس فن میں انھوں نے جہاں اپنے وقت کے نام ور مسلمان موسیقاروں سے استفادہ کیا، وہیں متعدد ہندو گائیک اور سازندوں سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ مشہور ہے کہ مشرقی بنگال کے ایک لوک گائیک گوپال کرشن بھٹاچاریہ کی شاگری اختیار کرنے کے لیے علاؤ الدین نے نہ صرف خود کو ہندو ظاہر کیا بلکہ اپنا نام بھی تارا سنہا رکھ لیا تھا۔

استاد علاؤ الدین خان نے مختلف ساز، خصوصاً سرود نوازی کے علاوہ فلموں کے لیے موسیقی بھی ترتیب دی۔ کئی راگ ان کی تخلیق بتائے جاتے ہیں۔ کومل بھیم پلاسی، کومل ماروا، دُرگیشوری، نٹ کھماج، میگھ بہار اور جونپوری توڑی بابا علاؤ الدین کی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔

بابا علاؤ الدین کے کئی ساز، ان کی نادر تصاویر، کتب، تحائف اور دیگر یادگار اشیا بنگلہ دیش کے سنگیت آنگن نامی میوزیم میں محفوظ کی گئی تھیں، جسے ایک ہنگامے کے دوران مشتعل طلبا نے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں بیش قیمت خزانہ خاکستر ہو گیا، لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے اور ان کی یادیں موسیقی سے محبت کرنے والوں کے دلوں پر نقش ہیں۔

بابا علاؤ الدین کے شاگردوں نے بھی اس فن میں اپنے استاد کا نام روشن کیا اور دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ کرکے شہرت سمیٹی۔ ان میں پنڈت روی شنکر، استاد علی اکبر خان، پنڈت نخل بینرجی، وسنت رائے، پنا لال گھوش، شرن رانی اور جوتن بھٹاچاریہ شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں