The news is by your side.

Advertisement

نام وَر موسیقار اور سارنگی نواز استاد بندو خان کا یومِ وفات

13 جنوری 1955ء کو نام ور موسیقار اور مشہور سارنگی نواز استاد بندو خان وفات پاگئے۔ بعد از وفات 1959ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ان کے نام کیا گیا۔ آج استاد بندو خان کا یومِ وفات ہے۔

موسیقی اور سارنگی کا ابتدائی درس اور سازوں کی تربیت اپنے والد علی جان خان سے جب کہ اپنے ماموں اُستاد مَمَن سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ استاد بندو خان آل انڈیا ریڈیو، دہلی اسٹیشن کے قیام کے فوراََ بعد ہی اس سے منسلک ہو گئے تھے۔ انھوں نے ریاست رام پور اور اندور کے دربار میں اپنے فن کی بدولت عزت پائی۔

ہندوستان کی قدیم کلاسیکی موسیقی کو سمجھنے اور اس کا حق ادا کرنے کی غرض سے استاد بندو خان نے سنسکرت بھی سیکھی۔ یہ ان کے اپنے فن سے لگاؤ اور جنون کی ایک مثال ہے۔

1880ء میں دہلی میں پیدا ہونے والے بندو خان کے والد علی جان خان بھی سارنگی بجاتے تھے۔ سُر ساگر کے موجد ممّن خان ان کے ماموں تھے۔

قیامِ پاکستان کے بعد بندو خان کراچی چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ استاد بندو خان نے کراچی ہی میں‌ مختصر علالت کے بعد دارِ فانی سے کوچ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں