پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

استاد دامن کا تذکرہ جن کے اشعار مسند نشینوں کے لیے نشتر ثابت ہوئے

اشتہار

حیرت انگیز

استاد دامن کا نام پنجابی زبان کے ادب اور آزادی کی تحریکوں کے دوران عوامی سطح پر شہرت پانے والے شاعر کی حیثیت سے ہمیشہ لیا جاتا رہے گا۔ انھیں طبقۂ عوام میں بڑی عزّت اور احترام ملا اور اپنے دور میں وہ خواص میں‌ بھی مقبول تھے۔

ان کا اصل نام چراغ دین تھا۔ دامن تخلص اور اہل علم و فن نے انھیں استاد کا لقب دیا تھا۔ یوں وہ استاد دامن مشہور ہوئے۔ استاد دامن 1911ء میں لاہور کے علاقے چوک متی اندرون لوہاری گیٹ پیدا ہوئے۔ والد کا نام میراں بخش تھا جو درزی تھے۔ یہی ان کے دادا کا بھی ذریعۂ معاش رہا تھا اور پھر چراغ دین بڑے ہوئے تو وہ بھی اپنے والد کی دکان پر بیٹھے اور سلائی مشین سنبھال لی۔ والد کے لیے کنبے کو پالنا اور اس کے اخراجات پورے کرنا دشوار تھا اور یوں استاد دامن بھی تنگ دستی میں پروان چڑھے۔ چراغ دین اسکول کے ساتھ ساتھ درزی کا کام سیکھنے لگے۔ تعلیم میٹرک سے زیادہ نہیں حاصل کرسکے۔ ایک جرمن کمپنی سے سلائی کا ڈپلومہ کیا اور باغبان پورہ میں اپنی دکان کھول لی۔ اسی زمانہ میں‌ وہ پنجابی زبان میں شعر کہنے لگے تھے اور ایک وقت آیا جب باقاعدہ شاعری شروع کی اور ان کی دکان پر ہم خیال افراد اور شعرا بھی جمع ہونے لگے۔ یہ دکان ایک درس گاہ بن گئی تھی۔ استاد دامن نے جس زمانہ میں‌ شاعری کا آغاز کیا تھا، وہ پنجاب میں‌ بھی آزادی اور انگریزوں کی مخالفت میں‌ چلنے والی تحریکوں کا زمانہ تھا۔ ان کی دکان پر ایک کانگریسی لیڈر کپڑے سلوانے آیا اور اتفاق سے چراغ دین دامن کا بطور شاعر تعارف ہوگیا تو اس نے اپنے ایک جلسہ میں‌ ان سے شاعری پڑھنے کو کہا۔ استاد دامن پہلی مرتبہ اسٹیج پر نمودار ہوئے اور اپنے خوب صورت اشعار اور دلفریب انداز سے سامعین کو متاثر کیا۔ اس کے بعد ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اب وہ سیاسی جلسوں کے ذریعے عوام کی آواز بن گئے۔ 1938ء سے 1946ء تک کا دور استاد دامن کی شاعری اور شہرت کا سنہری دور تھا۔ اس عرصہ میں ہندوستان میں آزادی کی تحریک کو تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مل کر آگے بڑھایا اور استاد دامن جیسے شاعر جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں اپنے کلام سے لوگوں کا لہو گرمایا کرتے تھے۔

استاد کو ایک خود دار، راست گو، اور درویش صفت انسان تھے اور انہی اوصاف کی بدولت ان کی عزّت ہر خاص و عام میں تھی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستانی حکومت اور اہم سرکاری شخصیات تک رسائی ہونے کے باوجود استاد دامن نے کبھی اپنے لیے گھر یا کسی قسم کی سہولیات نہیں‌ حاصل کیں۔ وہ ایک کھولی میں رہتے تھے جس میں‌ ہر طرف کتابیں ہی کتابیں‌ تھیں۔ استاد کو جبہ و دستار سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ملک میں ناانصافی، جبر اور سیاسی بنیادوں‌ پر کیے گئے وہ فیصلے جن سے عام آدمی کے حقوق پر ضرب پڑتی، استاد دامن کو احتجاجی شاعری پر مجبور کردیتے تھے ان کی زندگی میں کتابوں کے ساتھ ایسے ہم خیال احباب اور اہل قلم شامل تھے جن سے وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرسکتے تھے۔ استاد دامن نے اپنی کھولی یا کوٹھڑی کہیے، اس میں سیاست دانوں، اہل علم و فنون اور علما‌ کے علاوہ محنت کش اور مزدور لیڈروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا۔ یہ سب ان کی بڑی عزّت کرتے تھے اور ان کی صحبت سے فیض اٹھانے آتے تھے۔

استاد دامن نے جہاں حبُ الوطنی کے ترانے لکھے، سیاسی افکار اور نظریات کو شاعری کا موضوع بنایا اور معاشرتی برائیوں کی نشان دہی کی، وہیں ثقافت اور لوک داستانوں، صوفیانہ اور روایتی مضامین کو بھی اپنی شاعری میں برتا۔ وہ لاہوری تھے اور ان کا لاہور سے عشق اور تعلق تاعمر برقرار رہا، لیکن ان کو بڑا ملال رہا کہ آزادی کی تحریک کے دوران لاہور میں ان کا گھر جلا دیا گیا تھا اور دکان بھی لوٹ لی گئی تھی۔

استاد دامن 3 دسمبر 1984ء کو وفات پاگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ عوامی شاعر استاد دامن لاہور میں مادھو لال حسین کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

استاد دامن کی شاعری میں لوک رنگ، تصوف، سیاسی موضوعات، روایتی موضوعات کے علاوہ روز مرہ زندگی کا ہر رنگ ملتا ہے۔ ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کے جذبات کی ترجمانی انہی کی زبان میں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عوامی شاعر کہلائے۔

پاکستان ہی نہیں تقسیم سے پہلے اور بعد میں‌ بھی استاد دامن کی شاعری ہر قسم کے ظلم اور استحصالی نظام کی مخالفت کی وجہ سے مشہور تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو بھی استاد دامن سے متاثر تھے۔ مشہور ہے کہ نہرو نے ان کی نظمیں سن کر انھیں ’آزادی کا شاعر‘ کے لقب سے یاد کیا۔ استاد دامن نے اپنی پنجابی شاعری سے فیض اور جالب کی طرح عوام میں‌ شعور بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کلام اس قدر اثر انگیز تھا کہ دلّی میں منعقدہ ایک مشاعرے میں سامعین رو پڑے تھے۔ اس جلسے میں پنڈت نہرو بھی شریک تھے جو استاد دامن سے بہت متاثر ہوئے۔ کہتے ہیں‌ کہ نہرو نے انھیں ہندوستان منتقل ہونے کی دعوت دی تھی۔ استاد دامن کا جواب تھا کہ ’اب میرا وطن پاکستان ہے، میں لاہور ہی میں رہوں گا، بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں۔‘

استاد دامن فارسی، سنسکرت، عربی اور اردو زبانیں جانتے تھے۔ وسیعُ المطالعہ تھے۔ عالمی ادب پر ان کی گہری نظر رہی۔ مطالعہ اور کتب بینی نے ان کی فکر و نظر کو خوب چمکایا۔ تقسیم کے بعد اپنے وطن کی سیاست کا حال، امرا کی عیّاشیاں اور اشرافیہ کے چونچلے دیکھنے والے استاد دامن اگرچہ عوامی نمائندوں سے مایوس اور سخت نالاں‌ تھے مگر وہ رجائیت پسند بھی تھے۔ استاد دامن نے امید اور امکان کو کبھی نظرانداز نہیں‌ کیا۔ البتہ ان کے اشعار مسند نشینوں کے سینے میں‌ ضرور نشتر بن کر اترتے رہے۔ مشاہیرِ ادب اور علم و فنون سے وابستہ شخصیات بھی پنجابی زبان و ادب اور عوام کے لیے استاد دامن کی خدمات کے معترف رہے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں