The news is by your side.

Advertisement

خطاط الحرم المسجد النبوی ۔ استاد شفیق الزمان

گزشتہ دنوں حرم مدنی میں روضہ رسول کے اوپر کندہ قرآنی آیات کا رسم الخط تبدیل کیا گیا اور یہ کام ایک پاکستانی خطاط کی زیر نگرانی سر انجام دیا گیا ہے جنہیں دنیا استاد شفیق الزمان کے نام سے جانتی ہے۔ مسجد نبوی کی موجودہ جدید تعمیرات میں دیواروں اور روضہ رسول پر کندہ آیات و احادیث وغیرہ کی خطاطی کا کام انہیں کے زیر نگرانی سر انجام پایا ہے۔

پاکستان کے ممتاز خطاط استاد شفیق الزمان 1956 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ خطاط الحرم المسجد النبوی کے لقب سے مشہور ہیں اور گزشتہ 20 سال سے مسجد نبوی کے توسیعی منصوبے میں بطور استاد الخطاط خدمات سرانجام دے ر ہے ہیں۔

pyar-ali-post

استاد شفیق الزمان کی شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب 2 مارچ 1994 کو استنبول میں واقع اسلامی ورثہ کے تحفظ کے کمیشن کی جانب سے منعقدہ تیسرے عالمی مقابلہ خطاطی میں ان کے ایک فن پارے کو دوسری پوزیشن کا حق دار قرار دیا گیا۔ یہ خطاطی کے کسی بھی عالمی مقابلے میں پاکستان کے لیے پہلا عالمی اعزاز تھا۔

استاد شفیق الزمان کے جس فن پارے کو یہ اعزاز عطا ہوا تھا وہ سورہ لقمان کی آیت 27 اور 28 کی خطاطی پر مبنی تھا اور خط ثلث جلی میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں دنیا بھر کے سینکڑوں خطاط نے حصہ لیا تھا اور جس جیوری نے انعام کا فیصلہ کیا تھا اس میں دنیا بھر کے خطاطی کے دس بڑے اساتذہ شامل تھے۔

پاکستانی خطاط کے لیے بین الاقوامی اعزاز *

استاد شفیق الزمان اس سے قبل مسجد نبوی میں مستقل طور پر فن خطاطی کا مظاہرہ کرنے کے لیے دنیا بھر کے سینکڑوں فن کاروں میں اول قرار دیے جا چکے تھے اور انہیں مسجد نبوی میں خطاطی کرنے والے پہلے پاکستانی خطاط ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

حکومت پاکستان نے استاد شفیق الزمان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 14 اگست 2013 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں