The news is by your side.

Advertisement

تنازعات کے باوجود امریکی خواتین سوکر ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں

امریکا کی خواتین سوکر ٹیم ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھا کر فائنل میں پہنچ گئی، بہترین کارکردگی کے ساتھ ساتھ پلیئرز کی انجری کے مسائل اور مختلف تنازعات نے انہیں دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بنا دیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے خواتین فٹبال ورلڈ کپ 2019 میں امریکی ٹیم نے حیران کن کارکردگی دکھا کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ فائنل امریکا اور نیدر لینڈز کے درمیان 7 جولائی کو کھیلا جائے گا۔

 

View this post on Instagram

 

Congrats to the #USWNT for earning that tea. On to the final! 🇺🇸

A post shared by Hillary Clinton (@hillaryclinton) on

امریکی خواتین کی ٹیم اس سے قبل ایک میچ میں 13 گول کر کے سوکر میچز کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔

خواتین سوکر ٹیم کی اس کارکردگی پر جہاں ان کی تعریف کی جارہی ہے وہیں مختلف تنازعات بھی ان کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

امریکی ٹیم کی پلیئر میگن راپینو نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں قومی ترانہ نہ گا کر بہت سے لوگوں کو خفا کردیا تھا۔ یہ حرکت انہوں نے اقلیتوں کے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف بطور احتجاج کی۔

وہ اس سے قبل سنہ 2016 میں بھی یہی عمل دہرا چکی ہیں جب وہ ایک میچ میں قومی ترانے کے دوران سیدھا کھڑے ہونے کے بجائے جھک گئیں، اس کا مقصد ملک میں نسلی بنیادوں پر ناانصافی اور منصوبہ بندی کے تحت استحصال کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

امریکی خواتین سوکر ٹیم اس سے قبل اپنے جائز معاوضوں کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے کی وجہ سے پہلے ہی خبروں میں ہے۔

رواں برس مارچ میں امریکی خواتین سوکر ٹیم نے یو ایس سوکر فیڈریشن پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنا معاوضہ مرد سوکر پلیئرز کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں 28 خواتین پلیئرز کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ ’کاروباری حقائق یہ ہیں کہ خواتین مردوں کے برابر معاوضے کی حقدار نہیں ہیں‘۔

پلیئرز نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مردوں کی ٹیم کے مقابلے میں زیادہ مقابلے کھیلے اور جیتے ہیں جبکہ ان کی وجہ سے فیڈریشن کے منافع میں بھی اضافہ ہوا، اس کے باوجود ان کے معاوضے مرد پلیئرز سے کم ہیں۔

امریکا کی خواتین سوکر ٹیم نے اس سے قبل بھی کئی بار فیڈریشن سے یکساں معاوضوں کا مطالبہ کیا تھا تاہم ہر بار ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا۔

اب جبکہ یہ ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ چکی ہے اور اس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کی فتح کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، تو انہیں امید ہے کہ اس بار وہ یہ مقدمہ ضرور جیتیں گی اور اپنا یکساں معاوضے کا حق حاصل کر کے رہیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں