The news is by your side.

Advertisement

پر اسرار طور پر نمودار ہونے والا دھاتی ٹکڑا اچانک غائب، ماہرین پریشان

امریکی ریاست یوٹاہ کے صحرا میں چند روز قبل پر اسرار طور پر نمودار ہونے والے دھاتی ٹکڑا اچانک غائب ہوگیا ہے، جس کے باعث ایک بار پھر علاقے میں سنسنی پیدا ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس ڈھانچے کی موجودگی کی تصدیق کی تھی اور اس بارے میں اندازے کیے جا رہے تھے کہ وہ وہاں کیسے پہنچا اور اسے کس نے نصب کیا؟ پراسرار دھاتی ڈھانچے کے بارے میں ابھی قیاس آرائیاں جاری ہی تھیں کہ وہ وہاں سے غائب بھی ہو گیا ہے۔

یوٹاہ میں بیورو آف لینڈ مینجمنٹ کے حکام کے مطابق انہیں معتبر اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جمعہ کی شام تک کسی نامعلوم ذرائع نے اس پراسرار شے کو صحرا سے غائب کر دیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ یورو آف لینڈ مینجمنٹ نے اس ڈھانچے کو نہیں ہٹایا ہے، جسے نجی ملکیت سمجھا جارہا تھا۔

اس پر اسرار دھاتی ٹکڑے کو کچھ دن قبل ایک امدادی ٹیم نے اس وقت تلاش کیا تھا جب وہ معدوم جنگلی بھیڑوں کی گنتی کرنے کی غرض سے یوٹاہ کے صحرا گئے تھے،جہاں انہوں نے اس پر اسرار شے کو دیکھا تھا، حکام یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے کہ دھاتی ٹکڑا چٹانوں کے وسط میں زمین سے دس سے بارہ فٹ اونچا تھا۔

اس پراسرار دریافت کی خبر تیزی سے سوشل میڈیا وائرل ہوئی تھی اور لوگ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے تھے، بعض افراد اس کو کسی خلائی مخلوق کی کارستانی سمجھ رہے تھے تو کچھ اس کا سٹینلے کبرک کی کلاسک سائنس فکشن فلم ’ دوہزار ایک کے اے سپیس اوڈیسی سے موازنہ کرنے لگے تھے۔کچھ مبصرین نے اس دھاتی ٹکڑے کی مماثلت امریکی آرٹسٹ جان میک کریکن کے فن پارے سے کی جو ریاست نیو میکسیکو میں ایک عرصے سے مقیم تھے اور دوہزار گیارہ میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی، اس بات کو تقویت ان کے بیٹے پیٹرک میک کراکن کے بیان سے ملتی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے دوہزار دو میں ان سے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا فن پارہ کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ جائیں جسے کافی عرصے بعد دریافت کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  چٹانوں کے درمیان پراسرار دھات کی پیدائش، ماہرین دنگ رہ گئے

اس کے علاوہ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اسٹرکچر وہاں پر موجود خلائی مخلوق نے نصب کیا ہے، لیکن اکثریت کا یہ خیال ہے کہ یہ شاید کسی نامعلوم آرٹسٹ کا فن پارہ ہے۔

مقامی حکام نے اس دھاتی ٹکڑے کی دریافت ہونے والے مقام کو مخفی رکھنے کی بہت کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ کہیں یہاں لوگوں کی بھیڑ نہ لگ جائے لیکن اس کے باوجود کچھ کھوجی اس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں