The news is by your side.

Advertisement

عظمیٰ کاردار کی معافی اور وضاحت پر تحریک انصاف کا بڑا فیصلہ

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کی احتساب کمیٹی نے عظمیٰ کاردار کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے فوری طور پر اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا حکم جاری کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ پاکستان تحریک انصاف کی احتساب کمیٹی نے عظمیٰ کاردار کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے اُن کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم اور پنجاب اسمبلی سے فوری استعفیٰ دینے کا حکم دیا۔

احتساب کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ  عظمیٰ کاردار نے سینئر پارٹی رہنماؤں کے خلاف صحافیوں سے گفتگو کر کے پارٹی آئین کی سنگین خلاف ورزی کی۔

کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے فیصؒے میں بتایا گیا ہے کہ عظمی کاردار کے خلاف پارٹی کے آئین کی شق 3 کے تحت کاروائی عمل میں لائی گئی، رکن اسمبلی کے اس اقدام کی وجہ سے تحریک انصاف کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: عظمیٰ کاردار کی وضاحت: ’آڈیو لیک کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت دی جائے‘

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی احتساب کمیٹی نے 5 جولائی کو عظمیٰ کاردار کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کرنے اور انہیں اسمبلی نشست سے استعفیٰ دینے کا حکم دیا تھا۔

قائمہ کمیٹی کی جانب سے بنیادی رکنیت ختم کرنے کا تحریری حکم نامہ میں کہا گیا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کو 15 جون کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس دیا گیا اور انہیں ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عظمیٰ کاردار نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اُن کا رویہ نامناسب اور منصب کے شیانِ شان نہیں تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ سنگین غلطی کے بعد عظمیٰ کاردار کسی پارلیمانی منصب کی اہل نہیں، وہ 7 روز کے اندر پارٹی ایلیٹ کمیٹی میں قائمہ کمیٹی برائے نظم و احتساب کے فیصلے کو چیلنج کرسکتی ہیں۔

پارٹی کی جانب سے  بنیادی رکنیت خارج ہونے کے بعد رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے آڈیو ٹیپ کے معاملے پر قیادت سے معافی مانگنے کی کوشش بھی کی مگر وہ رائیگاں چلی گئی تھی۔ پی ٹی آئی قیادت نے معافی کو مسترد کرتے ہوئے عظمیٰ کاردار کو اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کی اور واضح کیا تھا کہ استعفیٰ نہ دیا گیا تو پارٹی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: معافی کی کوششیں ناکام ، رکن اسمبلی عظمیٰ کاردار سے استعفیٰ لینے کی تیاریاں

رکن اسمبلی نے وضاحت پیش کرنے کیلئے وزیراعظم اوروزیراعلیٰ ہاؤس رابطےکی کوششیں کیں تھیں، تاہم ان پر وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے بھی بند کردیئے گئے تھے۔

بعد ازاں عظمیٰ کاردار نے گیارہ جولائی کو  اپنا جواب کمیٹی کو جمع کرایا جس میں انہوں نے آڈیوکال لیک کرنے والوں‌ کے خلاف مقدمہ درج کرانےکی اجازت مانگی تھی۔

عظمیٰ کاردار نے اپنا جواب وکیل کے ذریعے جمع کرایا، جس میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ میرے خلاف سازش کرنے والوں نے آڈیو کو توڑ موڑ کر پیش کیا، آڈیوکال نجی گفتگو تھی جس میں دوسرےفریق کی آواز کو ہٹا کر پیش کیا گیا۔

عظمیٰ کاردار نے جواب میں لکھا تھا کہ نجی گفتگوکو میرےخلاف عوامی سطح پر استعمال نہیں کیاجاسکتا، سب جانتے ہیں کہ 8سال سے پارٹی کی وکالت کررہی ہوں اور اس دوران کبھی کوئی غلط لفظ اپنے منہ سے نہیں نکالا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ’میری نجی گفتگوکوغیرقانونی طریقے سے ریکارڈ کرنا شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے، اگر پارٹی اجازت دے تو آڈیو لیک کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں مقدمہ درج کراؤں گی‘۔

رکن اسمبلی نے مزید لکھا تھا کہ میرےخلاف فیصلہ کرتےہوئے قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ میرے حوالے سے کسی نے کوئی درخواست بھی دائر نہیں کیا تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں