The news is by your side.

Advertisement

بچوں کی ویکسی نیشن : اقوام متحدہ نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا

نیو یارک : عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث جہاں تقریباً تمام سرگرمیاں معطل تھیں ان ہی میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے اور بنیادی ویکسین کا عمل بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں کوئی بڑی پریشانی دنیا کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔

اس حوالے سے اقوامِ متحدہ نے طوفان سے قبل خاموشی کی جانب اشارہ کیا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں بچے بنیادی ویکسین بھی نہیں لے پائے۔

گزشتہ سال 2.3 کروڑ بچے خناق، تشنج اور کالی کھانسی سمیت کئی عام امراض کی ویکسین تک نہیں لگوا پائے۔ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق یہ 2019ء کے مقابلے میں تقریباً 37 لاکھ کا اضافہ ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ سال بھر کے دوران1.7 کروڑ بچے ایسے تھے جنہیں ایک ویکسین تک نہیں مل پائی۔ جس سے ویکسین تک رسائی میں عدم مساوات کا اظہار ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت، پاکستان، انڈونیشیا، میکسیکو اور مالی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں جبکہ حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت میں ویکسین اینڈ امیونائزیشن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ کیٹ او برائن نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ 2021ء میں ہم نے ایک طوفان کا پیش خیمہ دیکھا ہے۔ اب بچوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی کیونکہ ان کو ویکسین دستیاب ہی نہیں تھی۔ ہمیں ان بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

زیادہ تر متاثرہ بچے ایسے ہیں جو یا تو کشیدگی سے دوچار علاقوں میں رہتے ہیں یا پھر دُور دراز یا کچی آبادیوں کے مکین ہیں کہ جو ویسے ہی محرومیوں کا شکار ہیں۔ پھر ان کی قریبی ترین تنصیبات یا تو بند ہیں یا ان کے والدین کو خوف ہے کہ وہاں جانے کی صورت میں وہ کووِیڈ-19 کا شکار ہوسکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صحت کی خدمات اور ویکسین تک رسائی کووِیڈ-19 کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے اور اپنی پہلی ویکسین نہ پانے والے بچوں کی تعداد بھی ان ہی خطوں میں زیادہ ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور کا کہنا ہے کہ وبا سے پہلے ہی ایسی پریشان کُن علامات نظرآ رہی تھیں کہ ہم بچوں کو قابلِ علاج امراض سے بچانے میں سست روی سے پیش رفت کر رہے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ دو سال پہلے خسرہ کی بڑی وبا آئی تھی لیکن اب کرونا وائرس نے صورتِ حال کو بد سے بدتر کر دیا ہے۔ سب کے ذہن میں کووِیڈ-19 ویکسین کی یکساں بنیادوں پر فراہمی پیش پیش ہے۔ بلاشبہ ویکسین کی تقسیم ہمیشہ ہی سے عدم مساوات کا شکار رہی ہے لیکن اسے ہونا نہیں چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں