The news is by your side.

Advertisement

ویکسین: سعودی عرب نے عالمی ادارہ صحت کا ابہام دور کر دیا

سعودی عرب نے کورونا ویکسین کی آمیزش سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی تشویش کو مسترد ‏کرتے ہوئے ویکسینز کے ملاپ کو محفوظ قرار دے دیا۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ مملکت میں منظور شدہ ‏ویکسین کی آمیزش کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی ویکسین کی آمیزش سے متعلق ‏مؤقف درست نہیں، بین الاقوامی تحقیق اور مختص سائنسی کمیٹیوں کی بنیاد پر ہم باور کراتے ہیں ‏کہ سعودی عرب میں ہمارے پاس منظور شدہ ویکسینز کی آمیزش محفوظ ہے یہ اقدام عالمی ادارہ ‏صحت اور کئی ملکوں میں منظور شدہ ہے۔

سعودی عرب کا یہ بیان عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ویکسینز کی آمیزش کو خطرناک رجحان ‏قرار دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے کہا تھا کہ لوگوں میں بڑھتے ہوئے ‏‏مختلف اقسام کی کورونا ویکسین کے ملاپ کے رجحانات صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو ‏‏سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی ادویات کے حوالے سے فیصلے کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ منظور شدہ کسی ‏بھی ویکسین کی دو خوراکیں کورونا کی ڈیلٹا قسم سے بھی زیادہ سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔

ویکسین کی آمیزش: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ ‏

انہوں نے کہا کہ محدود ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف اقسام کی ویکسین کی آمیزش کے نتائج طبی ‏‏لحاظ سے مضرصحت ہو سکتے ہیں۔

آن لائن بریفنگ میں ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نے لوگوں میں الگ الگ دواساز کمپنیوں کی ویکسین ‏‏کو ملانے کا رجحان بغیر کسی ٹھوس شواہد اور کم تجرباتی ڈیٹا کی بنیاد پر پروان چڑھ رہا ہے یہ ‏‏ممالک میں انتشار کی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے کہ شہری اپنے طور پر فیصلہ کرنے لگ ‏‏جائیں کہ کون دوسری، تیسری اور چوتھی اور کس قسم کی خوراک لے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں