لاہور: وساکھی میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے 2840 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، جہاں صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
صوبائی وزیر نے یاتریوں کے استقبال کے دوران ان کے ساتھ بیٹھ کر لنگر بھی تناول کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ یاتریوں کے لیے لنگر، ٹرانسپورٹ اور میڈیکل کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے لیے پنجاب پولیس اور رینجرز کے خصوصی دستے تعینات ہیں۔ یاتریوں کو بسوں کے تین مختلف قافلوں میں ننکانہ صاحب روانہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر اقلیتی امور نے مزید کہا کہ امرتسر، ہریانہ اور دہلی سے آنے والے سکھ یاتری پاکستان میں 10 روز قیام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور کشیدہ تعلقات کے باوجود ہزاروں ویزوں کا اجراء امن دوستی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے اور یہاں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے بھارتی حکومت کو کرتار پور کوریڈور کھولنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں بھی پاکستان کی امن کوششوں کو سراہنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ سکھ یاتریوں نے پاکستان میں کیے گئے استقبال اور انتظامات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


