site
stats
عالمی خبریں

اسپین میں حملے، ہلاک افراد کی تعداد 14 ہوگئی،50 زخمی

میڈرڈ: اسپین کے شہر بارسلونا میں تیز رفتار وین نے متعدد افراد کو کچل دیا جس کے باعث 14 افراد ہلاک اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے، دوسرے واقعے میں دو حملہ آوروں نے ہوٹل میں گھس کر متعدد افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسیپن کے شہر بارسلونا میں واقع سیاحتی مقام رمبلاس میں گزشتہ دنوں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا اور حملہ آور (ڈرائیور) نے تیزرفتار وین ہجوم پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں اب تک 14 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے جنہیں مقامی اسپتالوں میں طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا، مقامی پولیس کے مطابق حادثہ بہت بڑا ہے جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پولیس نے الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو متاثرہ مقام اور عوامی مقامات پر جانے سے روک دیا اور ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو کی مدد سے امدادی کاموں کا آغاز کردیا۔ ہجوم پرگاڑی چڑھانے والے شخص کی تلاش جاری ہے۔

مقامی پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی کی کڑی قرار دیا ہے، پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر چارمشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

گرفتار افراد میں تین مراکشی اورایک اسپین کا شہری شامل ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز کیمبرلزمیں کارروائی میں ہلاک پانچ دہشت گردوں میں بارسلونا حملے میں ملوث مشتبہ شخص شامل تھا۔

بارسلونا پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔

دوسرا واقعہ

دوسری جانب مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ 2 مسلح افراد نے ہوٹل میں داخل ہوکر متعدد افراد کو یرغمال بنالیا ، پولیس نے ہوٹل کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔

علاوہ ازیں اندوہناک سانحے کے بعد اسپین میں تین روز کا سوگ منایا جارہا ہے۔ بارسلونا کے مرکزی چوک میں شہریوں کی جانب سے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔

دوسری جانب بارسلونا حملے کے بعد یورپ میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے، واضح رہے کہ بارسلونا حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی سے دہشت گرد حملوں کے لیے گاڑیاں استعمال کررہے ہیں اور وہ ہجوم پر گاڑی چڑھا دیتے ہیں، ایک سال کے دوران یہ حملے لندن، برلن اور فرانس میں پیش آئے جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کویہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top