جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

بیٹی کو یتیم نہیں کر سکتے، عدالت نے بیوی بیٹی کے قاتل کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کر دی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (10 مارچ 2026): سپریم کورٹ نے وہاڑی کے ایک کیس میں بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، اور مجرم محمد امین کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کر دی۔

اس کیس میں ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے مجرم کو 2 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ مجرم کو پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر ایک اور بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔

کیس میں فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، جس میں عدالت نے کہا مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا، جب کہ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے کہا جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے۔

عدالتی دستاویز کے مطابق مجرم محمد امین پر اپریل 2021 کو وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کرنے کا الزام تھا، مجرم کا وقوعہ سے ایک روز پہلے اہلیہ اور بچوں سے زرعی اراضی کی فروخت پر جھگڑا ہوا تھا۔

+ posts

راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں