اسلام آباد (10 مارچ 2026): سپریم کورٹ نے وہاڑی کے ایک کیس میں بیوی بیٹی کے قتل کے مجرم کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، اور مجرم محمد امین کی سزا پھانسی سے عمر قید میں تبدیل کر دی۔
اس کیس میں ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے مجرم کو 2 مرتبہ سزائے موت سنائی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ مجرم کو پھانسی کی سزا برقرار رکھ کر ایک اور بیٹی انسا امین کو یتیم نہیں کر سکتے۔
کیس میں فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا، جس میں عدالت نے کہا مجرم والد کو پھانسی دینا عدالتی سرپرستی میں بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہوگا، جب کہ اقوام متحدہ کنونشن کے تحت بچوں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے کہا جب وارث مقتول کا براہ راست وارث ہو تو دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں ہو سکتا، مجرم اپنی 15 سالہ انسا امین بیٹی کا واحد بچ جانے والا سہارا ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق مجرم محمد امین پر اپریل 2021 کو وہاڑی میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کو خنجر کے وار سے قتل کرنے کا الزام تھا، مجرم کا وقوعہ سے ایک روز پہلے اہلیہ اور بچوں سے زرعی اراضی کی فروخت پر جھگڑا ہوا تھا۔
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں


