3 جنوری 2026 کی صبح لاطینی امریکہ کی تاریخ کا ہولناک موڑ ثابت ہوئی۔ امریکہ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس آپریشن کی تصدیق کی اور اسے "منشیات گردی” (Narcoterrorism) پر ایک فیصلہ کن ضرب قرار دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف دو ممالک کے درمیان دہائیوں پرانی کشیدگی کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ اس نے خطے کے سیاسی مستقبل پر بھی کئی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔
Why Did the US Strike Venezuela?- A Short Explainer
پس منظر اور فوجی کارروائی کی تفصیلات
وینزویلا اور امریکہ کے تعلقات 2013 میں مادورو کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے مسلسل زوال پذیر رہے۔ واشنگٹن نے ہمیشہ مادورو حکومت پر آمریت اور مجرمانہ نیٹ ورکس کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی معاشی پابندیوں نے وینزویلا کی تیل پر مبنی معیشت کو مفلوج کر دیا تھا، لیکن 2025 میں ٹرمپ کی دوبارہ واپسی نے ان کوششوں کو براہِ راست فوجی تصادم میں بدل دیا۔ ستمبر 2025 میں "آپریشن سدرن سپیئر” کا آغاز ہوا، جس کے تحت کیریبین میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جن پر منشیات کی اسمگلنگ کا شبہ تھا۔
اس آپریشن میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت آگئی اور دسمبر 2025 تک امریکی ڈرونز نے وینزویلا کی بندرگاہوں پر زمینی حملے شروع کر دیے۔ 3 جنوری کی کارروائی اس سلسلے کی آخری کڑی تھی، جس میں دارالحکومت کراکس میں زوردار دھماکے ہوئے اور ‘فویرٹے ٹیونا’ جیسے اہم فوجی اڈوں کو مفلوج کر دیا گیا۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی صدر کو حاصل خصوصی اختیارات کے تحت کی گئی تاکہ "امریکی انصاف” کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
تیل پر قبضہ؟
امریکی انتظامیہ نے اس حملے کا بنیادی جواز منشیات کی اسمگلنگ کو قرار دیا ہے، تاہم ناقدین اور اقوامِ متحدہ اور کئی ممالک نے اسے ایک ملک کی خود مختاری اور آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بالخصوص امریکی حکومت اور اس کی پالیسیوں کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حملے کا اصل مقصد وینزویلا کے 303 ارب بیرل تیل کے ذخائر اور سونے کی کانوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہ کارروائی "مونرو ڈاکٹرائن” کی واپسی معلوم ہوتی ہے، جس کے ذریعے امریکہ مغربی نصف کرّے میں روس، چین اور ایران جیسے حریفوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے۔
سیاسی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس گرفتاری کے بعد وینزویلا میں فوج میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا مچاڈو کی قیادت میں ایک نئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ عالمی سطح پر اس اقدام سے جہاں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہاں روس اور ایران جیسے ممالک نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اگرچہ امریکہ اسے جمہوریت کی بحالی قرار دے رہا ہے، لیکن بین الاقوامی برادری اسے یک طرفہ طاقت کے استعمال کی ایک خطرناک مثال کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔


