نیویارک (6 جنوری 2026): وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کی تنزلی اور گرفتاری ان کا ٹرمپ کا مذاق اڑانا اور ڈانس کرنا بنی۔
امریکی فوج نے تین جنوری کو وینزویلا پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت سیف ہاؤس سے گرفتار کر لیا۔ اس حملے کی جہاں دیگر وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ وہیں حالیہ کچھ عرصہ میں مادورو کی جانب سے صدر ٹرمپ کا مذاق اڑانا اور ان کی طرح ڈانس کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے ڈیلی میل نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وینزویلا پر حملہ کر کے نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی وجہ ان کا ٹرمپ کا مذاق اڑانا ہے۔ امریکی صدر کی ٹیم نے مادورو کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ حالیہ چند ہفتوں میں وینزویلا کے معزول صدر کی ٹرمپ کے مذاق اڑانے اور ڈانس کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد کیا۔
مادورو نے گزشتہ ماہ دسمبر میں ایک اسکول کی افتتاحی تقریب کے دوران تقریر کے دوران اچانک ٹرمپ کی نقالی کرتے ہوئے ان کی طرح رقص کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ رقص کیا۔ مادورو نے اس سے قبل نومبر میں جان لینن کا کلاسک گانا ‘امیجن’ گایا تھا۔
تاہم خاص طور پر اس وقت جب مادورو نے دسمبر کے آخر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے استعفیٰ اور ترکی میں جلا وطنی کی پیشکش مسترد کر دی، اور اس کے فوراً بعد الیکٹرانک بیٹ پر رقص کرتے ہوئے انگریزی میں کہا: “No crazy war”۔
امریکی حکام کے مطابق یہی لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ہفتے کی صبح امریکی خصوصی دستوں نے کراکس میں اچانک کارروائی کی، مادورو اور سیلیا فلوریس کو ان کے رہائشی حصے سے حراست میں لیا اور نیویارک منتقل کر دیا۔


