وینزویلا کے خلاف امریکہ کی حالیہ اور غیر معمولی کارروائی جو ایک خودمختار ریاست کے برسرِاقتدار صدر کی گرفتاری تک جا پہنچی، بین الاقوامی سیاست کی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے جس پر عموماً پردہ ڈال دیا جاتا ہے: خودمختاری کوئی اخلاقی قدر نہیں، بلکہ طاقت کے توازن سے جنم لینے والی ایک عملی حقیقت ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے لیے یہ واقعہ محض وینزویلا کی سیاسی شکست نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھی کہ جب طاقت کا عدم توازن شدید ہو اور روکنے کی صلاحیت بھی موجود نہ ہو تو دنیا درحقیقت کیسے کام کرتی ہے۔
ان ریاستوں کے نقطۂ نظر سے، جو تاریخی طور پر بیرونی دباؤ کا سامنا کرتی رہی ہیں، روکنے کی صلاحیتوں کے حامل ہونے پر ایک سرد مگر حقیقی اطمینان محسوس نہ کرنا مشکل ہے۔ کسی ملک کی داخلی کمزوریاں ہوں، معاشی ناپائیداری ہو یا سیاسی تضادات، ایٹمی ہتھیاروں اور قابلِ اعتبار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی موجودگی اس کے ساتھ برتاؤ کی نوعیت کو یکسر بدل دیتی ہے۔ یہی واحد حقیقت طاقتور ترین ممالک کو بھی رکنے، حساب لگانے اور ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کوئی بھی سپر پاور یا علاقائی بالادست طاقت کسی ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست کے خلاف اس بے فکری سے اقدام نہیں کر سکتی جیسا کہ وینزویلا کے معاملے میں دکھائی دیا۔ یہ فتح کا دعویٰ نہیں، بلکہ حقیقت پسندی ہے۔
روکنے کی صلاحیت، خصوصاً جوابی تباہی کی صلاحیت، ایک ایسی دنیا میں آخری سرخ لکیر ہے جہاں بین الاقوامی قانون انتخابی انداز میں نافذ ہوتا ہے اور اخلاقی بیانیہ اکثر عریاں طاقت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وینزویلا کا معاملہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ روکنے کی صلاحیت سے محروم ریاستیں خواہ وہ اقوامِ متحدہ کی رکن ہوں یا عالمی سطح پر تسلیم شدہ، ہمیشہ ایسے جابرانہ اقدامات کی زد میں رہتی ہیں جو طاقتور جوابی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے خلاف ناقابلِ تصور ہوتے ہیں۔
عالمی عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کا بیانیہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ ضبط، پسپائی اور اعتماد سازی کا صلہ تحفظ کی صورت میں ملتا ہے، اور بین الاقوامی ادارے ریاستوں کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں۔ مگر تاریخ اس مفروضے کو مسلسل جھٹلاتی آئی ہے۔عراق نے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام ختم کیے، نتیجہ حملہ اور تباہی۔ لیبیا نے ایٹمی عزائم ترک کیے، نتیجہ ریاستی انہدام اور وینزویلا، عسکری کمزوری اور معاشی تنہائی کے عالم میں، اپنی خود مختاری کی براہِ راست پامالی کا مشاہدہ کر چکا ہے۔
اس کے برعکس، ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستیں، چاہے وہ داخلی سطح پر کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہوں ان سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔ شمالی کوریا، شدید عالمی تنہائی کے باوجود، براہِ راست فوجی حملے سے محفوظ رہا ہے۔ ایران کی ایٹمی دہلیز تک رسائی بذاتِ خود براہِ راست جارحیت کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایسی ریاستوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، پابندیاں لگتی ہیں، مذاکرات ہوتے ہیں مگر انہیں بزورِ طاقت زیر نہیں کیا جاتا۔ وینزویلا کے واقعے سے دنیا بھر کے دارالحکومتوں کو ملنے والا سبق نہایت واضح ہے کہ روکنے کی صلاحیت مؤثر ہوتی ہے؛ اصول اور ضابطے اس وقت تک بے جان رہتے ہیں جب تک ان کے پیچھے طاقت کی ضمانت موجود نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ اب کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر یہ واقعہ اُن ممالک میں خاموش مگر گہرے ازسرِنو جائزوں کو جنم دے جو طویل عرصے سے معاہدوں، اتحادوں اور خیرسگالی پر اپنے تحفظ کا انحصار کرتے آئے ہیں۔ ایٹمی ہتھیار اور جدید میزائل نظام اب جارحیت کی علامت نہیں بلکہ جبر، تذلیل اور عالمی نظام کے انتخابی اطلاق کے خلاف انشورنس پالیسی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ روکنے کی صلاحیت دروازے پر دستک کو روکتی ہے، جب کہ ریاستی صلاحیت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی دستک دینے کا ارادہ ہی نہ کرے۔ اس سے حاصل ہونے والا تحفظ قابلِ فہم ہے۔ اسٹریٹجک ہتھیار ریاستوں کو مہلت دیتے ہیں، مذاکرات کی، مزاحمت کی، اور شدید جبر سے بچاؤ کی مہلت۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دشمنی بھی طاقت کے استعمال کے بجائے دباؤ اور سفارت کاری کے دائرے میں رہے۔
لیکن اس صلاحیت کو مکمل تحفظ سمجھ لینا ایک خطرناک خوش بھی فہمی ہے۔ ایٹمی ہتھیار براہِ راست حملے کو روکتے ہیں، مگر وہ پابندیوں، معاشی گلا گھونٹنے، سفارتی تنہائی یا اندرونی عدم استحکام کو نہیں روک سکتے۔ وینزویلا صرف اس لیے نہیں بکھرا کہ اس کے پاس ہتھیار نہیں تھے، بلکہ اس لیے کہ معاشی زوال، ادارہ جاتی شکست اور عالمی تنہائی نے اسے اسٹریٹجک طور پر قابلِ صرف بنا دیا تھا۔ یہ فرق بنیادی ہے کہ ایٹمی ہتھیار ایک ڈھال ہیں، بنیاد نہیں۔ وہ بعض کمزوریوں کی تلافی کر سکتے ہیں، مگر مستقل طور پر معاشی مضبوطی، سیاسی جواز اور ریاستی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ اس صلاحیت کو حاصل کرنے کا اطمینان، اطمینانِ کاذب کو جنم دے اور یہ گمان پیدا ہو کہ چونکہ سرحد پار ٹینک نہیں آ سکتے، اس لیے ریاست محفوظ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دور کا جبر شاذ و نادر ہی ٹینکوں کے ذریعے آتا ہے۔ وہ مالیاتی نظاموں، تجارتی رکاوٹوں، قانونی ہتھکنڈوں اور بیانیاتی جنگ کے ذریعے آتا ہے، جہاں حکومتوں کو غیر قانونی ثابت کیا جاتا ہے اور مداخلت کو معمول بنا دیا جاتا ہے۔ایٹمی صلاحیت اپنے حامل پر بھی نظم و ضبط مسلط کرتی ہے۔ جب تصادم کے نتائج وجودی ہوں، تو ایک معمولی غلط اندازہ بھی تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کو کم نہیں بلکہ زیادہ اسٹریٹجک سنجیدگی درکار ہوتی ہے۔ یہ دو دھاری تلوار بیرونی مہم جوئی کو روکتی ہے، مگر اندرونی غیر ذمہ داری کی گنجائش کو بھی کم کر دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سلامتی کی سوچ کو بالغ ہونا چاہیے۔
اسٹریٹجک اطمینان بلند آہنگ بیان بازی میں نہیں بلکہ بہتر سفارت کاری میں ڈھلنا چاہیے؛ دفاعی قوم پرستی کے بجائے مضبوط اداروں میں اور تنہائی کے بجائے معاشی و تکنیکی اہمیت میں۔ واقعی محفوظ ریاستیں صرف خوف زدہ نہیں کرتیں وہ ناگزیر بھی ہوتی ہیں۔ تاہم اس واقعے کا ایک وسیع تر اور زیادہ تشویشناک پہلو بھی ہے۔ وینزویلا جیسے واقعات محض ایک ریاست کو متاثر نہیں کرتے، بلکہ پورے عالمی نظام میں خطرات کے ادراک کو ازسرِنو تشکیل دیتے ہیں۔ جب کوئی سپر پاور یہ پیغام دے کہ اسے روکے جانے کی صلاحیت کے بغیر اس کی خودمختاری قابلِ نظرانداز ہے، تو ہر کمزور ریاست یہی نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ ضبط اور پسپائی ایک کمزوری ہے۔
اسی لمحے اسلحے کی دوڑ جنم لیتی ہے نظریے سے نہیں، خوف سے۔ اگر آئندہ برسوں میں ایٹمی، میزائل یا دیگر اسٹریٹجک اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوتی ہے تو اس کی جڑیں جارحانہ عزائم میں نہیں بلکہ قائم کی گئی نظیروں میں ہوں گی۔ ایسی صورت میں ذمہ داری اُن پر کم ہو گی جو یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور اُن پر زیادہ ہو گی جنہوں نے اسے ناگزیر بنا دیا۔
یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ جو طاقت کے عدم پھیلاؤ کی سب سے بلند آواز بنتی ہے، وہی اپنے طرزِ عمل سے اس تصور کو کمزور کر رہی ہوتی ہے۔ جب قانون کا نفاذ انتخابی ہو اور طاقت بے لگام، تو دنیا زیادہ محفوظ نہیں بلکہ زیادہ نازک، زیادہ مسلح اور زیادہ بداعتماد ہو جاتی ہے۔وینزویلا کا واقعہ تمام خوش فہمیوں کا پردہ چاک کر دیتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ آخری تجزیے میں تحفظ کی تعریف طاقت کرتی ہے۔ جن کے پاس اثر و رسوخ نہیں، انہیں یا تو اسے حاصل کرنا ہو گا یا کمزوری کے ساتھ جینا سیکھنا ہو گا۔
ان دونوں اسباق میں سے کسی ایک کو بھی نظرانداز کرنا اسی المیے کے اعادے کا خطرہ رکھتا ہے کہ کسی اور دارالحکومت میں، کسی اور جواز کے تحت، مگر اسی بے رحم منطقِ طاقت کے ساتھ۔ آج ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں بین الاقوامی قانون، معاہدات اور ضوابط کی عمارت حادثاتی طور پر نہیں بلکہ طاقتور ریاستوں کے بوجھ تلے منہدم ہو رہی ہے۔ایک ایسی دنیا میں جہاں طاقت، سرمایہ اور جبر، اصولوں پر غالب آ چکے ہیں۔


