پاکستانی تاریخ میں وزرائے اعظم کے متعلق عدالتی فیصلے -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی تاریخ میں وزرائے اعظم کے متعلق عدالتی فیصلے

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ کا اہم فیصلہ ضرور ہے لیکن عدالتیں اس سے پہلے بھی عہدے پر موجود اور سابق وزرائے اعظم سے متعلق اہم فیصلے صادر کر چکی ہیں۔

سنہ 1977 میں جنرل ضیا نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف اور اسمبلی تحلیل کردی تھی جس کے بعد عدالت نے ضیا الحق کے اقدام کو جائز قرار دیا۔

سنہ 1979 میں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی جس پر 4 اپریل 1979 پر عملدر آمد کیا گیا۔

سنہ 1988 میں وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف اور اسمبلی تحلیل کردی گئی۔ برطرفی کے خلاف حاجی سیف اللہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے ضیا الحق کے اقدام کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا لیکن اسمبلی اور حکومت بحال نہیں کی۔

سنہ 1990 میں غلام اسحٰق خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف اور اسمبلی تحلیل کردی۔ سپریم کورٹ نے بے نظیر کی حکومت کی برطرفی کو جائز قرار دیا۔

سنہ 1993 میں غلام اسحٰق خان نے نواز شریف کی حکومت اور اسمبلی تحلیل کردی۔ ان پر بھی وہی الزامات عائد کیے گئے جو بے نظیر بھٹو پر لگائے گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی برطرفی کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی حکومت اور اسمبلی بحال کردی۔

سنہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نواز حکومت برطرف کردی اور انہیں گرفتار کرلیا جس کے بعد ظفر علی شاہ نے عدالت سے رجوع کیا۔ اس وقت سپریم کورٹ نے مشرف کا اقدام درست قرار دیا۔

جون 2012 میں سپریم کورٹ نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو 5 سال کے لیے نا اہل قرار دیا۔ ان کی جگہ پیپلز پارٹی نے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنایا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں