کوئٹہ (26 جنوری 2026): خون جما دینے والی سردی میں گیس نہ ہونے پر عوام مشکلات کا شکار ہیں وہیں لکڑیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
اس وقت ملک کے طول وعرض میں سردی کی شدید ترین لہر جاری ہے میدانی علاقوں کے ساتھ بلوچستان، کے پی اور شمالی علاقہ جات میں خون جما دینے والی سردی نے لوگوں کو گھروں تک محصور کر دیا ہے۔
بلوچستان کے صوبائی دارالخلافہ کوئٹہ میں کڑاکے دار سردی میں جہاں گیس کی قلت نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ وہیں ناجائز منافع خوروں نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع لکڑی کی قیمت میں من مان اضافہ کر دیا ہے۔
اس وقت شہر اور گرد ونواح میں پارہ نقطہ انجماد سے نیچے جا چکا ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور خود کو گرم رکھنے کے لیے گیس نہ ہونے پر لکڑی خریدنے جا رہے ہیں، لیکن وہاں آسمان سے باتیں کرتی قیمت انہیں مایوس واپس لوٹا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ لکڑی کی قیمت 1600 روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔ اس قیمت میں اگر لکڑی خریدیں تو کھائیں گے کیا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ حرکت میں آئے اور لکڑیوں کی قیمت میں ناجائز اضافہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معمول کی قیمت پر لکڑی بیچنے کا پابند کرے۔
ریکارڈ توڑ سردی، برفباری اور بارشوں کا ایک اور طاقتور سسٹم ملک میں داخل ہونے کو تیار
عطیہ اکرم اے آر وائی نیوز بلوچستان سے وابستہ ہیں۔ انھیں ۲۰۰۶ میں بلوچستان سے پہلی خاتون صحافی پونے کا اعزاز بھی حاصل ہے


