The news is by your side.

Advertisement

گرجا گھر پر دہشت گردوں کا دھاوا، 5 ہلاک، سیکڑوں یرغمال

جوہانس برگ: جنوبی افریقا کے دارالحکومت میں واقع چرچ پر مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد  زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق مسلح افراد نے گرجا گھر میں موجود سیکڑوں لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا کے دارالحکومت جوہانس برگ میں چرچ پر ہونے والے حملے اور قتل عام میں اب تک پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ پولیس نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ پولیس نے قتل کے الزام میں اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جوہانس برگ کے علاقے زووربیکن  میں واقع پینٹی کوسٹ ہولی نیس نامی چرچ میں جدید اسلحے سے لیس مسلح افراد نے حملہ کیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

واقعے کے کچھ دیر بعد پولیس اور نیشنل ڈیفنس فورس کے دستے جائے وقوعہ پر پہنچے، جس کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ایمبولینسس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: گرجا گھر میں دھماکہ کرنے والے خودکش آور ایک ہی خاندان کے افراد ہیں

پولیس حکام کے مطابق چرچ کے قائدین کے درمیان معمولی تنازع شروع ہوا تھا جو اب خونریزی میں تبدیل ہوگیا ہے، مقامی وقت کے مطابق حملہ آور دوپہر تین بجے چرچ میں داخل ہوئے اور انہوں نے 200 سے زائد لوگوں کو یرغمال بنایا جن میں سے پانچ کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق 30 سے زائد مسلح افراد چرچ میں  اُس وقت داخل ہوئے جب عبادت جاری تھی، دو رہنماؤں کے درمیان ہونے والے تنازع کی وجہ عیسائیوں کے درمیان ہونے والی گروہ بندی ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے چار افراد کو گولیاں مار کر گاڑی میں بند کیا اور پھر اُسے آگ بھی لگا دی۔ چاروں لاشوں کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق حملہ آوروں نے چرچ کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی محافظ کو بھی اُس کی گاڑی میں قتل کیا اور پھر لاش کو جلا ڈالا۔

پولیس اور جنوبی افریقا کی فوج نے چرچ کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کردیا ہے جس کے دوران 30 سے زائد جدید ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ ایک درجن سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلواکیہ میں برف سے بنا گرجا گھر

پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد لوگوں کو یرغمال بنانے اور قتل عام میں ملوث تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں