برطانیہ میں دہرے قتل کی واردات: مقتولہ پولیس کو مدد کے لیے بلاتی رہ گئی -
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں دہرے قتل کی واردات: مقتولہ پولیس کو مدد کے لیے بلاتی رہ گئی

لندن: برطانیہ میں چاقو زنی کی واردات میں قتل ہونے والی خواتین میں سے ایک پولیس سے فون پر بات کررہی تھی جب یہ حملہ ہوا، خاتون نے متعدد بار کال کی لیکن پولیس بروقت مدد کےلیے نہ آسکی۔

تفصیلات کے مطابق 22 سالہ رنیم اودیہہ اور ان کی 49 سالہ والدہ کو لندن کے علاقے سولی ہل میں پیر کی صبح چاقو کے وار کرکے شدید زخمی کیا گیا تھا، دونوں خواتین جانبر نہ ہوسکیں۔

برطانوی محکمہ پولیس کے سراغ رساں کا کہنا ہے کہ مس اودیہہ نے پولیس کو متعدد کالز کی، اور جس دوران پولیس انہیں ٹریس کرکے ان تک پہنچی تو یہ سانحہ پیش آچکا تھا ۔ تاہم ویسٹ مڈ لینڈ پولیس نے برطانوی اخبار کے اس دعوے پر اپنا ردعمل نہیں دیا ہے۔

ویسٹ مڈلینڈ پولیس کو دوہرے قتل کی واردات میں ہلاک ہونے والی رنیم کے 21 سالہ سابق پارٹنر کی تلاش ہے جس کا نام جانباز ترین بتایا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کے ان ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

دہرے قتل کی واردات میں ملوث مبینہ ملزم

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ رنیم نے مرنے سے ایک گھنٹہ قبل تین بار پولیس کو کال کی لیکن ہیلپ لائن پر موجود افسر نے کسی بھی افسر کو جائے واردات کی جانب روانہ نہیں کیا۔

تاہم بعد ازاں پولیس ترجمان نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ان کالز کے دوران رنیم کی لوکیشن تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تاہم کچھ وجوہات کے سبب ناکام رہے ، اسی دوران جائے واردات پر صورتحال گھمبیر ہوچکی تھی اور جیسے ہی لوکیشن ٹریس ہوئی ، پولیس کی مدد چند منٹوں میں وہاں پہنچ چکی تھی۔ تاہم اس وقت تک دونوں خواتین زخمی ہوچکی تھیں ، جبکہ قاتل جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

پولیس کو جائے وقوعہ سے مبینہ آلہ قتل بھی مل گیا ہے جبکہ ایک گاڑی کو بھی تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے ،علاوہ ازیں تحقیقات کے لیے موبائل فون سمیت بہت سی دیگر اشیا بھی تحویل میں لی گئی ہیں۔ پولیس نے جانباز کی تصویر بھی جاری کی ہے اور اس کے ساتھ ہدایات بھی کہ اگر کوئی اس شخص کو دیکھے تو اس سے الجھنے کی کوشش کرنےکے بجائے فوری طورپرہنگامی مدد کےنمبر پر اطلاع دے، یہ شخص خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں