بزرگ افراد ’الزائمر ‘ سے بچاؤ کے لیے ویڈیو گیم کھیلیں -
The news is by your side.

Advertisement

بزرگ افراد ’الزائمر ‘ سے بچاؤ کے لیے ویڈیو گیم کھیلیں

طبی ماہرین کہتےہیں معمر افراد کےلیےویڈیو گیمزکھیلنا مفید ہے ۔ویڈیو گیم کھیلنے والے افراد میں یادداشت کمزور ہونے والے مرض کےامکانات کم ہوجاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں دس سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا کہ کچھ مخصوص نوعیت کے ویڈیو گیمز کھیلنے سے بڑھتی ہوئی عمر کے افراد میں یادداشت کمزور ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے لیے مختلف اقسام کی ذہنی صلاحیتوں کے حامل اٹھائیس سو سے زائدمعمر افراد کی ذہنی سطح جانچنے کے لیے تجربہ کیاگیا‘ تجربے میں انہیں کچھ مخصوص ویڈیو گیمز کھیلنے کے لیے کہا گیا جن میں ایک وقت میں کئی کام انجام دینے ہوتے ہیں یعنی یہ ویڈیو گیمز ملٹی ٹاسکنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے ۔

امریکی ادارے یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن معمر افراد نے ویڈیو گیمز کھیلے ‘ ان کی ذہنی صلاحیت اوریاداشت دوسروں کے مقابلے میں انتیس فیصد بہتر تھی۔

امریکی ادارےکی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد جن کی عمریں 20 سے 79 سال کے درمیان تھی‘ ان کے ذہن پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کی شرح زیادہ تھی جبکہ وہ افراد جن کی عمریں 60 سے 85 سال کے درمیان تھیں ‘ ان کے ذہن پر اس شرح سے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ تاہم مجموعی طور پر ان کی ذہنی کارکردگی کی بنیا د ان تمام افراد سے بہتر رہی جنہوں نے کبھی کوئی ویڈیو گیم نہیں کھیلا تھا۔

 پاکستان میں 10 لاکھ افراد الزائمر کا شکار*

الزائمر ایک دماغی مرض ہے جو عموماً 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں عام ہے۔ اس مرض میں انسان اپنے آپ سے متعلق تمام چیزوں اور رشتوں کو بھول جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق الزائمر اموات کی وجہ بننے والی بیماریوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق خون میں شکر کی مقدار کی کمی سے یادداشت کی کمی واقع ہونے لگتی ہے اور یہی الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا سبب بنتی ہے۔ خون میں شکر کی مقدار اور سطح کو نارمل حالت میں رکھ کر اس بیماری کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں