لاہور (8 اکتوبر 2025) زندہ دلانوں کے شہر میں مُردوں کے دفن ہونے کی جگہ نہیں بچی قبرستانوں میں اب تین چار منزلہ قبریں بننے لگیں۔
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ ابراہیم ذوق کے شعر کا یہ مصرع آج لاہور کے شہریوں پر صادق آتا ہے کہ جنہیں اب دو وقت کی روٹی کی فکر کے ساتھ یہ بھی فکر ستانے لگی ہے کہ وہ مر گئے تو انہیں دفن ہونے کے لیے جگہ کہاں ملے گی؟ کیونکہ شہر کے تمام قبرستانوں میں نئی قبر کے لیے جگہ نہیں بچی ہے۔
میانی صاحب یا تاج پورہ، فردوسیہ یا مومن پورہ، ٹاؤن شپ ہو یا میاں میر سمیت شہر کے دیگر قبرستان، سب کا ایک ہی نوحہ ہے کہ یہاں نئی قبر کی جگہ نہیں بچی ہے۔ لوگوں کو اگر اپنے مُردے کو دفن کرنا ہو تو جن کے آبا واجداد یہاں پہلے سے دفن ہیں، ان کی قبر کھلوا کر اس میں تدفین کی جاتی ہے۔
گورکن کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے کئی کئی قبرستانوں میں کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تین چار منزلہ تک قبروں پر قبریں بھی بنائی جا رہی ہیں۔
ٹاؤن شپ قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے ایک شہری کا فکرمند لہجے میں کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے والدین اور بزرگوں کو یہاں دفنایا ہے، مگر آج دیکھتے ہیں کہ ہمارے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ نئے قبرستانوں کے لیے لاہور شہر میں جگہیں مختص کی جائیں۔
الفت مغل اے آر وائی نیوز لاہور سے وابستہ رپورٹر ہیں


