جمعہ, اپریل 17, 2026
اشتہار

اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر شہریوں کو صاف ماحول دینے والے! (ویڈیو رپورٹ)

اشتہار

حیرت انگیز

سکھر (28 اکتوبر 2025): خاکروب کو ہمارے معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر شہریوں کو صاف ماحول دیتے ہیں۔

سیوریج کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اگر کہیں گٹر بند اور گندا پانی سڑک پر کھڑا ہو جائے تو وہاں آمدورفت معطل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں صرف ایک ہی طبقہ ہے، جو لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلاتا ہے۔ اس کو کوئی خاکروب کے نام سے پکارتا ہے تو کوئی سینٹری ورکر اور کسی نے ان کا نام جوگی رکھا ہوا ہے۔

سکھر میں زیر زمین گندے پانی میں جا کر گٹر صاف اور بند سیوریج لائنوں کو کھولنے والے محنت کشوں کو عرف عام میں جوگی کہا جاتا ہے۔ شہر کی صفائی، نکاسی آب اور صحتِ عامہ سب کچھ ان کے کندھوں پر ہے۔

شہریوں کو صاف اور صحتمند ماحول فراہم کرنے والے ان خاکروبوں کے لیے سہولیات، تحفظ اور عزت شاید کہیں گم ہو گئی ہیں۔

ان جوگیوں کا کہنا ہے کہ گٹر کی گیس سب سے زہریلی ہوتی ہے، اور اب تک ہمارے کئی ساتھی اس زہریلی گیس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر ہمیں اپنے بچوں کی پرورش اور پیٹ بھرنے کے لیے یہ کام کرنا پڑتا ہے۔

ان کا یہ بھی شکوہ ہے کہ انہیں اس زہریلی گیس سے بچاؤ کے لیے کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ صرف بالٹی، رسی اور ڈنڈا دیا جاتا ہے۔ المیہ ہے کہ پہلے ہمیں گٹر صفائی کے بعد صابن اور تیل ملتا تھا، وہ بھی چھ ماہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

سینٹری ورکرز کے سپروائزر خالد غوری کا کہنا ہے کہ یہ خاکروب جان پر کھیل کر بہت خطرناک کام کرتے ہیں۔ ایک تو گٹروں کی گیس سب سے زہریلی ہوتی ہے، پھر گندے پانی میں خطرناک کیڑے مکوڑے بھی ہوتے ہیں، لیکن کوئی انکی قدر نہیں کرتا۔

یہ مناظر روز کا معمول ہیں بغیر ماسک، دستانے اور بغیر آکسیجن کٹ کے یہ مزدور گٹروں میں اترتے ہیں۔ جہاں زہریلی گیس، کیمیکل اور جان لیوا تعفن ہے۔ لیکن طویل عرصے سے یہ کام ان کی زندگی کا حصہ ہے۔

اعداد و شمار دیکھیں تو ہر سال کئی خاکروب اپنی جان گنوا دیتے ہیں دم گھٹنے یا حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے۔ اگر جدید مشینری، حفاظتی لباس، اور تربیت فراہم کی جائے تو نہ صرف ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ نکاسی آب کا نظام بھی زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔

 

+ posts

Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent

اہم ترین

سحرش کھوکھر
سحرش کھوکھر
Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent

مزید خبریں