The news is by your side.

Advertisement

ویڈیو اسکینڈل، مریم نوازسمیت مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد: جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لانے پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر کے مطابق جج ارشد ملک کی شکایت پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔

مقدمے میں مریم نواز، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید، احسن اقبال و دیگر کو نامزد کیا گیا۔ ایف آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ہیر پھیر کر کے دکھائی اور اسے ٹیمپر کر کے الیکٹرانک فارجری بھی کی۔

مزید پڑھیں: جج ویڈیو اسکینڈل میں بلیک میلنگ پر دس سال سزا ہوسکتی ہے: شہزاد اکبر

ایف آئی آراندراج کے بعد بعدویڈیوبلیک میلنگ اسکینڈل میں میاں رضا نامی نیا کردار بھی سامنے آیا جس نے ویڈیو میاں طارق سے خرید کر اسے آگے فروخت کیا، جج ارشدملک کی ہی شکایت پر ایف آئی اے نے دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے میاں طارق کو گرفتارکیا۔

متن میں کہا تھا ہے کہ جب ملتان میں ڈسٹرکٹ جج تھا تو میاں طارق نےغیراخلاقی ویڈیوبنائی، 5ماہ پہلے میاں طارق نےویڈیو مسلم لیگ ن کے رہنمامیاں رضا کو فروخت کی، ویڈیو کے ذریعے ناصرجنجوعہ،ناصربٹ،خرم یوسف،مہرگیلانی نےبلیک میل کیا اور کہا کہ نوازشریف کی مدد کرو۔

جج ارشد ملک کی درخواست پر کاٹی جانے والی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ بلیک میل کرکےکہاجاتاتھا کہ تاثر پیش کروں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دباؤمیں دیا، مریم نواز،لیگی رہنماؤں کوپریس کانفرنس کرتےدیکھ کرشدیدجھٹکالگا کیونکہ اس کا مقصد خاندان،عدلیہ کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈاکرنا مقصود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو بلیک میلنگ اسکینڈل کا ایک اور اہم کردار سامنے آگیا

ارشد ملک نے وزیر قانون کو ویڈیو ریلیز ہونے کے بعد ایک خط تحریر کیا تھا جس میں پریس کانفرنس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ ایف آئی آر ایف آئی اے کے اسلام آباد تھانے میں کاٹی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں