چنئی (28 ستمبر 2025): بھارتی پولیس نے تمل اداکار و سیاستدان وجے کی ریلی میں بھگدڑ مچنے سے ہلاکتیں ہونے پر ان کی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز اداکار و سیاستدان وجے کی ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تاہم بھگدڑ مچنے سے 39 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ وجے اپنی جماعت تملگا ویٹری کزھگم (ٹی وی کے) کیلیے اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات کیلیے مہم چلا رہے تھے۔
تمل ناڈو پولیس نے مقدمہ درج کیا جس میں پارٹی رہنما بسی آنند، نرمل کمار اور وی پی متی یلگن کو نامزد کیا گیا جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
سینئر پولیس عہدیدار سیلواراج نے بتایا کہ ٹی وی کے نے 10,000 افراد کے اجتماع کی اجازت مانگی تھی لیکن اصل ہجوم اس سے دگنا سے زیادہ تھا۔
وجے تین دہائیوں سے تمل سنیما کے سب سے زیادہ کامیاب اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال اپنی جماعت شروع کرنے کے بعد سے بڑے پیمانے پر ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کیلیے فس کس 10 لاکھ (بھارتی روپے) کا اعلان کیا ہے۔
حکام نے واقعے کی وجہ جاننے کیلیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دے دیا جو ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گا۔
ریلی کے دوران مقامی میڈیا کے فوٹیج میں ہزاروں افراد کو ایک بڑی گاڑی کے گرد دکھایا گیا جس کے اوپر وجے تقریر کر رہے تھے۔
جب کچھ لوگ بے ہوش ہوئے تو اداکار و سیاستدان کو ان پر پانی کی بوتلیں پھینکتے اور ہجوم بے قابو ہونے پر پولیس کی مدد مانگتے ہوئے دیکھا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


