The news is by your side.

Advertisement

شطرنج کے اس مہرے میں ایسا کیا ہے جس نے مالکان کو مالا مال کر دیا؟

لندن: برطانیہ میں شطرنج کا 7 ڈالر میں خریدا گیا ایک مہرہ 9 لاکھ ڈالر میں فروخت ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق قرونِ وسطیٰ کے عہد میں تیار کردہ شطرنج کے ایک مہرے کو ایک شخص نے کباڑ سے صرف 7 ڈالر کا خریدا تھا جو ایک نیلام گھر میں 9 لاکھ 20 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا۔

اس شطرنج کے 93 مہرے 1831 میں اسکاٹ لینڈ کے جزیرہ لیوس پر دریافت ہوئے تھے، جو شاید کسی بحری جہاز کے ٹکرانے کے بعد یہاں پہنچے ہوں گے، ماہرین کو اس کے بقیہ 5 مہروں کی تلاش تھی۔

گیارہویں تا چودھویں صدی عیسوی کا دور قرونِ وسطیٰ کا عہد کہلاتا ہے، اس زمانے میں دانت سے بنائی گئی شطرنج کی بساط کا ایک مہرہ بقیہ بساط سے غائب تھا، یہ مہرہ سمندری مخلوق والرس (سمندری گھوڑے) کے دانتوں سے تراشا گیا تھا، 1964 میں پرانی اشیا فروخت کرنے والے کی دکان سے یہ مہرہ خریدا گیا تھا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے بارہویں یا تیرہویں صدی عیسوی میں تراشا گیا تھا، اس کے بعد شطرنج کا یہ نایاب مہرہ خاندان در خاندان منتقل ہوتا رہا اور آخر کار مشہور نیلام گھر ’سودبے‘ کے حوالے کیا گیا، خود اس مہرے کے مالکان کو بھی علم نہ تھا کہ یہ ان کے لیے کسی خزانے سے کم نہ ہوگا۔

اس مہرے کا تعلق اپنے دور کی مشہور ترین شطرنج کی بساط سے ہے اور خیال ہے کہ یہ کم سے کم 500 سال تک کہیں چھپا رہا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں