ممبئی: ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کے بعد معروف اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے شدید تنقید کی۔
معروف اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ بالکل بھارت والے میچ کی طرح کیا گیا، سلمان آغا کی کپتانی یہاں بھی کمزور رہی۔ ان کے سب سے مؤثر باؤلر عثمان طارق نے آٹھواں اوور کیا، وکٹ بھی لی اور کوئی رن بھی نہیں دیا۔ مگر کپتان صاحب نے انہیں ہٹا دیا اور تب واپس لائے جب اگلے تین اوورز میں دوسرے باؤلرز 36 رنز دے چکے تھے — یعنی جب میچ تقریباً ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
Just like the India game, Salman Agha poor with his captaincy. Their biggest winner Usman Tariq bowls the 8th over, picks a wicket and doesn’t concede runs, and Kaptaan Saab takes him off, and brings him on only after others conceded 36 off next 3 overs – virtually when the game…
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) February 24, 2026
وکرانت گپتا کا کہنا تھا کہ انتہائی ناقص کپتانی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر وہ اتنے زیادہ رنز بنانے کے باوجود یہ میچ نہیں جیت سکے تو شاید وہ کوئی بھی میچ نہیں جیت سکتے۔
معروف اسپورٹس جرنلسٹ نے سوال کیا کہ اگر آپ پاکستان کے کپتان ہوتے تو ایسی نازک صورتحال میں صورتحال میں آپ عثمان طارق سے بالنگ کراتے؟ انہوں نے کہا میں تو عثمان طارق کی بولنگ کا فین ہوگیا ہوں۔
دوسری جانب اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’خبر‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے کہا کہ انگلینڈ نے میچ جیتنے کی پلاننگ کی جب کہ ہماری کوئی پلاننگ نظر نہیں آئی۔ سلمان علی آغا نے بالکل بیکار کپتانی کی۔
باسط علی نے کہا کہ آٹھویں اوور میں عثمان طارق نے آتے ہی وکٹ لی تو کپتان نے پھر اسے ہٹا دیا اور بارھویں اوور میں لائے۔ اس کو مسلسل چار اوور کراتے تو ہیری بروک کی وکٹ مل سکتی تھی، لیکن ہم نے اس کی سنچری بنوا دی۔
ان کا کہنا تھا کہ 164 کے اسکور پر بھی ہم جیت سکتے تھے۔ آخری اوور میں جب ہمیں دو وکٹیں چاہئیں تھے۔ ہمیں شاداب کو لانا چاہیے تھا اور اس کو کہتے کہ عادل کی طرح سلائیڈ بولنگ کرے، لیکن یہاں فاسٹ بولر کو گیند تھما دی گئی۔
اگر کوئی اور کپتان ہوتا تو وہ اپنا نمبر تبدیل کرتا اور بابر کو نمبر تین پر بھیج کر خود نمبر چار پر آتا، لیکن یہ بھی نہیں کیا گیا۔ آپ کسی کلب کی نہیں بلکہ پاکستان کی قیادت کر رہے ہو۔ یہ فیصلے بتاتے ہیں کہ سلمان علی آغا قومی ٹیم کی کپتانی کے اہل نہیں۔


