The news is by your side.

فلم ایکٹریس جس کی لاش ٹھیلے پر اسپتال سے لے جائی گئی

زندگی کیسے کیسے روپ بدلتی ہے۔ واقعات کس عجب طور رونما ہوتے ہیں اور گردشِ زمانہ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے، یہ سب ہمارے سامنے ہے۔ یہ تذکرہ ہے تقدیر کے مذاق کا نشانہ بننے والی ویمی کا جس نے پردۂ سیمیں پر بطور اداکارہ اپنا سفر شروع کیا اور پھر عبرت کا نشان بن کر رہ گئی۔

ساحر لدھیانوی کا یہ فلمی گیت کئی سماعتوں میں‌ محفوظ ہو گا۔

تم اگر ساتھ دینے کا وعدہ کرو
میں یوں ہی مست نغمے لٹاتا رہوں

یہ نغمہ بھی اسی شاعرِ بے بدل کے قلم سے نکلا تھا۔

کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے

1967ء میں‌ ہندوستانی فلم ہمراز ریلیز ہوئی جس کے نغمات بہت مقبول ہوئے۔ اس فلم نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ اس کا مرکزی کردار ویمی نے نبھایا تھا اور یہ گیت اسی اداکارہ پر فلمائے گئے تھے۔

وہ 1943ء میں پیدا ہوئی تھی۔ سکھ خاندان سے تعلق رکھنے والی ویمی نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ اسے شروع ہی سے گلوکاری کا شوق تھا اور اداکاری میں بھی دل چسپی رکھتی تھی۔ یہی شوق اسے ممبئی میں ہونے والے ثقافتی پروگراموں میوزک شوز میں لیے جاتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کی ملاقات میوزک ڈائریکٹر روی سے ہوئی جنھوں نے اس لڑکی کو بی آر چوپڑا کے بینر تلے بننے والی فلم میں‌ کام دلوا دیا۔ یوں‌ ویمی کو بڑے پردے پر اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع مل گیا۔

ہمراز وہ فلم تھی جس نے راتوں رات ویمی کو اسٹار بنا دیا اور اپنے اسٹائل کی وجہ سے بھی اسے خاصی شہرت ملی۔ اس کے بعد وہ فلم آبرو میں‌ نظر آئی اور اپنی اداکاری سے شائقین کو محفوظ کیا۔ ویمی کی تصاویر اس وقت کے ہر مقبول فلمی رسالے کی زینت بننے لگی تھیں۔ وہ اپنے وقت کے کام یاب بزنس مین شیو اگروال سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئی اور شاید یہی اس کی زندگی کا بدترین فیصلہ تھا۔

22 اگست 1977ء کو ویمی نے ایک اسپتال میں دم توڑ دیا۔ بے بسی اور نہایت غربت کے عالم میں انتقال کرنے والی ویمی کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئیں، ان کے مطابق وہ شوہر کی طرف سے جسمانی تشدد اور مسلسل زیادتی کا نشانہ بنتی رہی اور تب یہ رشتہ ختم ہوگیا تھا۔ علیحدگی کے بعد ویمی نے کلکتہ میں ٹیکسٹائل کا کاروبار شروع کیا لیکن اس میں‌ بری طرح ناکام رہی۔ اسے فلمی زندگی سے بھی دور ہونا پڑ گیا تھا اور وہ شہرت اور دولت جو اس نے حاصل کی تھی، اس کے ہاتھوں سے نکل رہی تھی۔ ویمی نے ان ناکامیوں کے بعد مایوس ہو کر شراب نوشی شروع کردی۔ اس نے جو کچھ کمایا تھا، وہ اس کے اخراجات اور شراب خریدنے پر اٹھتا جارہا تھا۔ حال یہ ہوا کہ وہ مفلس ہوگئی اور اس نے شراب خریدنے کے لیے جسم فروشی شروع کر دی۔

اس کے اچھے دنوں کے ساتھی اور فلمی دنیا کے لوگ جانے کہاں رہ گئے تھے۔ ویمی نے آخری سانس ایک اسپتال کے جنرل وارڈ میں لی جہاں‌ وہ ایک غریب اور بدحال عورت کے طور پر جگر کی بیماری کی وجہ سے پہنچی تھی۔ اسے کیا نام دیجیے کہ کل تک جو لڑکی فلم، فیشن اور اسٹائل کی دنیا میں نمبر ون کی دوڑ میں شامل ہورہی تھی، اس کی لاش کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک ٹھیلے پر ڈال کر لے جایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں