سرکہ ایک کھٹا اور تیزابی مائع ہے جو عموماً پھلوں (جیسے سیب اور انگور) یا اناج کے عرق کو خمیر کے عمل سے گزار کر تیار کیا جاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر پانی اور ایسیٹک ایسڈ پر مشتمل محلول ہے جو نہ صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ اچار اور سلاد میں بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شانِ رمضان میں ہربلسٹ سید غالب آغا نے سرکے کے طبی اور گھریلو فوائد پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرکہ صحت کے لیے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق سرکہ صرف کھانوں تک محدود نہیں بلکہ اسے چکنائی صاف کرنے، پھپھوندی ختم کرنے، قالین کی صفائی اور گہرے داغ دھبے مٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بازار میں دستیاب عام ’سفید سرکہ‘ دراصل مصنوعی (سینتھیٹک) ہوتا ہے، جس کے فوائد قدرتی سرکے جتنے مؤثر نہیں ہوتے۔
سید غالب آغا کا کہنا تھا کہ بعض نئی تحقیقات میں مصنوعی سفید سرکہ کے زیادہ استعمال کو معدے کے امراض، حتیٰ کہ معدے کے کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز سے بھی جوڑا جا رہا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے خاص طور پر انگور کے سرکے کو نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے، وزن میں کمی لانے، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح متوازن رکھنے کے لیے مفید قرار دیا۔
ان کے مطابق اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس پیٹ کی چربی کم کرنے، دل کی بیماریوں سے بچاؤ، جلد کی خشکی دور کرنے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
اسی طرح سیب کا سرکہ بھی متعدد فوائد کا حامل ہے۔ یہ وزن کم کرنے، معدے کی تیزابیت کم کرنے، کولیسٹرول گھٹانے، گلے کی سوزش میں آرام پہنچانے، دل کی صحت بہتر بنانے اور میٹابولزم کو فعال کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ صبح نہار منہ دو چائے کے چمچ سرکہ تھوڑے سے پانی میں ملا کر پینا دل کے امراض سے بچاؤ اور پیٹ کی چربی گھلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کیلیے جامن کا سرکہ
ذیابیطس کے مریضوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جامن کا سرکہ خاص طور پر مفید ہے۔ ان کے مطابق اگر شوگر کے مریض روزانہ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد آدھا چائے کا چمچ جامن کا سرکہ پانی کے ساتھ استعمال کریں تو خون میں شوگر کی سطح بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


