بھارت میں طوفانی ہوائیں نوجوان کو ’اڑا‘ کر لے گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے مختلف شہروں میں شدید گرج چمک کے ساتھ بارش، آسمانی بجلی اور طاقتور ہواؤں کے باعث 89 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی پھیلی۔
اس تباہی کے دوران سوشل میڈیا پر حیرت انگیز ویڈیو وائرل ہورہیی ہے جس میں ایک شخص کو طوفان کے دوران ہوا میں اڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیز ہواؤں نے نوجوان کو اڑا دیا، دعویٰ کیا گیا ہے کہ نوجوان تقریباً 300 میٹرک تک ہوا میں معلق رہا جس کے بعد وہ ایک کھیت میں جاگرا جس کے نتیجے میں اس کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔
پولیس نے بتایا کہ بھامورا کے علاقے کے گاؤں ببیانہ کا رہائشی ‘ننے میاں’ شادی ہال کے اندر پناہ لیے ہوئے تھا کہ اچانک طوفان میں شدت آ گئی خود کو بچانے کی کوشش میں اس نے مبینہ طور پر وہاں نصب ٹین شیڈ کو پکڑ لیا۔
A dramatic video from UP’s Bareilly has surfaced, showing a man being violently tossed several feet into the air by powerful winds during a severe storm. Clinging desperately to a tin shade, the victim was suddenly hurled skyward before crashing back to the ground. pic.twitter.com/23InPSYN4f
— Piyush Rai (@PiyushRaiUP65) May 14, 2026
ہوا کے طاقتور جھونکوں نے شیڈ کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور ننے میاں کو اپنے ساتھ اڑاتے ہوئے تقریباً 300 میٹر دور ایک کھیت میں جا پھینکا رپورٹ کے مطابق وہ شدید زخمی ہے اور اس وقت زیرِ علاج ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سچ میں یار، وہ طوفان کچھ الگ ہی تھا میں خود اپنی گاڑی میں تھا اور ڈر گیا تھا کیونکہ درخت گر رہے تھے اور ہر طرف مٹی کا طوفان تھا، سڑک پر کچھ نظر نہیں آ رہا تھا میں نے درختوں اور ٹریفک سے دور ایک محفوظ جگہ پر گاڑی روک دی اور طوفان کے گزرنے کا انتظار کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش کے حکام کی سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسم سے متعلقہ واقعات میں 53 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 114 جانور بھی ہلاک ہو گئے، کئی اضلاع میں گھروں، انفراسٹرکچر اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔
وائرل ویڈیو کی حقیقت
بعدازاں پولیس نے وائرل ویڈیو کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ ہوا میں اڑنے والے شخص کی ویڈیو ڈرامیٹک ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
ڈی ایس کا کہنا تھا کہ یہ وائرل ویڈیو ایڈٹ کرکے بنائی گئی ہے ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


