ورجینیا وولف بیسویں صدی کی معروف ناول نگار تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی دو انتہاؤں کا تجربہ کیا۔ ایک طرف ان کا خاندان میں ادب اور آرٹ کا جوہر موجود تھا تو دوسری طرف اس خاندان کے افراد نفسیاتی الجھنوں اور ذہنی بیماریوں میں بھی مبتلا رہے۔ ورجینیا وولف بھی اس کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ انھوں نے اپنی زندگی دریا کے سپرد کر دی تھی۔
ورجینیا وولف کے والدین چوں کہ پہلے سے شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے تو انھیں سوتیلے بہن بھائیوں کا ساتھ بھی ملا۔ اس گھرانے کے چند بڑے اور نوعمر رشتے دار بھی کسی نہ کسی طرح فن و تخلیق سے وابستہ تھے۔ ان کے والد قلم کار، مؤرخ اور نقّاد تھے جب کہ والدہ جولیا جیکسن ایک فرانسیسی رئیس کی پوتی تھیں اور علم و فنون کا شوق رکھنے کے ساتھ ساتھ سماجی فلاح و بہبود کے حوالے سے پہچانی جاتی تھیں۔ ورجینیا کی بہن ونیسا کو بطور مصورہ پہچان ملی جن کی شادی ایک نقاد کلائیو بیل سے ہوئی تھی۔ اس ماحول میں آنکھ کھولنے والی ورجینیا وولف اس لحاظ سے بدقسمت رہیں کہ انھوں نے بھی غیرطبیعی موت کا انتخاب کیا۔ ورجینیا وولف 28 مارچ 1941ء کو دریا میں کود گئی تھیں اور دو تین ہفتے بعد ان کی لاش ملی تھی۔
خود کشی کے بعد ورجینیا وولف کی آخری تحریر سامنے آئی جس میں وہ اپنے شوہر سے مخاطب ہو کر لکھتی ہیں، ’’اگر کوئی مجھے اس تکلیف سے بچا سکتا تھا، تو وہ تم ہی تھے۔ ہر چیز مجھ سے جدا ہو رہی ہے، سوائے اس محبت کے جو تم نے مجھ سے ہمیشہ کی۔‘‘
ناول نگار اور نقّاد کی حیثیت سے دنیا بھر میں شہرت پانے والی ورجینا وولف 25 جنوری 1882ء کو برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پورا نام ایڈلن ورجینیا وولف تھا۔ وہ ایک متمول گھرانے کی فرد تھیں۔ انھوں نے پانچ چھے برس کی عمر میں قلم کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کردیا تھا، جسے بعد میں ایک سمت اور ربط نصیب ہوا اور ورجینیا وولف نے بطور ادیب عالمی شہرت حاصل کی۔ ورجینیا وولف نے دستور کے مطابق اسکول کی بجائے گھر پر تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے اور گھر میں موجود کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے والد کی وجہ سے ورجینیا کو علمی و ادبی موضوعات پر گفتگو بھی سننے کو ملتی رہی جس نے ان کے اندر لکھنے اور بولنے کا شوق ابھارا۔ بعد میں ورجینیا نے کنگز کالج میں داخلہ لیا اور وہاں تاریخ اور ادب کا گہرا مطالعہ کیا، اسی دور میں عورتوں کے حقوق اور مسائل سے بھی انھیں آگاہی حاصل ہوئی۔ تب ان کی فکر نے پرواز کی اور باقاعدہ تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بھی شروع ہوگیا۔ والدہ کے بعد اسی زمانہ میں والد چل بسے اور پھر ورجینیا وولف کو بہت سی تکلیف دہ اور دل آزار باتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اس کا ذہن پر گہرا اثر ہوا اور ورجینیا ایک نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوگئیں۔ یہاں تک کہ مایوسی اور ڈپریشن نے انھیں اپنی جان لینے پر آمادہ کرلیا۔ ورجینا وولف موت سے پہلے بھی متعدد مرتبہ خود کُشی کی ناکام کوششیں کرچکی تھیں۔
اس برطانوی مصنّفہ کا پہلا ناول’’دا ووئیج آؤٹ‘‘ تھا۔ 1925ء میں ’’مسز ڈالووے‘‘ اور 1927ء میں ’’ٹو دا لائٹ ہاؤس‘‘ اور 1928ء میں ’’اورلینڈو‘‘ کے عنوان سے ناول منظرِعام پر آئے۔ ورجینیا کا ایک مضمون بعنوان ’’اپنا ایک خاص کمرہ‘‘ دنیا بھر میں قارئین تک پہنچا اور اسے بے حد پسند کیا گیا۔ ان کی تخلیقات کا پچاس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان کی کہانیوں کو تھیٹر اور ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ ’’مسز ڈالووے‘‘ ورجینیا وولف کا وہ ناول ہے جس پر فلم بنائی گئی تھی۔
ورجینیا وولف کا خود کشی سے قبل شوہر کے نام آخری پیغام بھی کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جس کا ایک حصّہ یہ بھی ہے۔ انھوں نے لکھا تھا:
پیارے…
مجھے لگتا ہے کہ میں دوبارہ پاگل پن کی طرف لوٹ رہی ہوں اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوبارہ اس بھیانک کرب سے نہیں گزر پائیں گے۔ میں دوبارہ اس تکلیف سے اَب ابھر نہیں پاؤں گی۔ مجھے پھر سے آوازیں سنائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے میں کسی چیز پہ اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہی ۔ میں وہ کرنے جا رہی ہوں…… جو بظاہر ان حالات میں کرنا بہتر ہے۔
تم نے مجھے زندگی کی ہر ممکنہ خوشی دی۔ تم میرے ساتھ ہر طرح کے حالات میں ساتھ ساتھ رہے، جتنا کوئی کسی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ نہ میں سمجھ ہی سکتی ہوں کہ دو انسان اس قدر اکٹھے خوش رہ سکتے ہیں، جیسے ہم رہ رہے تھے، جب تک کہ اس اذیت ناک بیماری نے مجھے شکار نہ کرلیا۔ اب میں مزید اس بیماری سے نہیں لڑ سکتی۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ میری وجہ سے تمہاری زندگی بھی تباہ ہو رہی ہے، جو میرے بغیر شاید کچھ پُرسکون ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ بس میں یہی کہنا چاہتی ہوں کہ میری ساری زندگی کی خوشی تم سے منسوب رہی ہے۔ تم ہمیشہ میرے ساتھ بہت اچھے اور پُرسکون رہے ہو، اور میں کہنا چاہتی ہوں کہ یہ حقیقت سب ہی جانتے ہیں۔ اگر کوئی مجھے اس تکلیف سے بچا سکتا تھا، تو وہ تم ہی تھے۔ ہر چیز مجھ سے جدا ہو رہی ہے، سوائے اس محبت کے جو تم نے میرے ساتھ ہمیشہ کی۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتی کہ میری بیماری کی وجہ سے تمہاری زندگی مزید تباہ ہو۔ میں ایسا مزید نہیں کرسکتی۔ میں نہیں سمجھتی کہ دنیا میں دو انسان ایک ساتھ اتنا خوش رہے ہوں…… جتنا ہم!
ورجینیا وولف نے 1913ء میں معروف ادبی نقاد لیونارڈ وولف سے شادی کی تھی۔ ان کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے وہ شدید مایوسی کا شکار تھیں اور گویا اپنے حواس کھو بیٹھی تھیں۔ معلوم ہوا کہ ورجینیا نے ڈوبنے کے لیے اپنی جیبوں میں وزنی پتھر بھر لیے تھے تاکہ وہ دریا کی سطح پر نہ ابھریں اور ڈوبتی جائیں۔ کہتے ہیں کہ ورجینیا کی خواہش کے مطابق ان کے جسم کو جلا دیا گیا اور اس کی راکھ خانقاہ میں بکھیر دی گئی تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


