اسلام آباد (13 جولائی 2026): بیورو آف امیگریشن اینڈ ایمپلائمنٹ ایکسچینج نے مختلف ممالک کے ویزا لگوانے والے پاکستانیوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
بیورو آف امیگریشن نے شہریوں کو ویزے کے کاغذات کی تصدیق کیلیے کسی ایجنٹ کا سہارا ہرگز نہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق کچھ پاکستانی ویزے کے حصول کیلیے غیر قانونی ایجنٹوں کا سہارا لے رہے ہیں، جو غیر مجاز طریقوں سے دستاویزات کی تصدیق کراتے ہیں۔
جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ اس عمل میں، یہ جعلساز مختلف سرکاری اداروں کے جعلی دستخط اور مہریں استعمال کرتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ بہت سے امیدوار جعل سازی کے طریقوں کے استعمال کر کے اپنی درخواستوں میں دھوکا دہی کا مرتکب ہوتے ہیں۔
ان جعلی دستاویزات میں اکثر تعلیمی اسناد، بینک اسٹیٹمنٹس، اور پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی جعلی تصدیقات شامل ہوتی ہیں۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق یہ غیر قانونی عمل نہ صرف ویزا لگوانے والے شہری کو موجودہ ویزے سے محروم کر سکتا ہے، بلکہ اس کے سنگین نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں، جن میں دوسرے ممالک میں داخلے پر مستقل پابندی اور ملک بدری (Deportation) شامل ہے۔
یہ عمل پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے اس غیر قانونی عمل میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی اے (FIA) کے ذریعے قانونی کارروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔
بیورو آف امیگریشن نے ویزا لگوانے والے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی دستاویزات کی تصدیق خود متعلقہ اداروں سے کروائیں اور کسی بھی شارٹ کٹ یا غیر مجاز ایجنٹ کے دھوکے میں ہرگز نہ آئیں۔



