The news is by your side.

Advertisement

وادی شوال – پاک فوج کا محیر العقل کارنامہ

پشاور: قبائلی علاقوں میں انتہا پسندی جب عروج پر تھی اور ہر طرف سے اس علاقے کے مستقبل کے حوالے سے صدائیں اٹھ رہی تھیں اور اس دوران پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بربریت کی انتہا کو چھونے والے واقعہ کے تناظر میں ریاست اور عوام نے یک آواز ہو کر اس کینسر کا خاتمے کی ٹھان لی تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سیاسی قیادت کے اعتماد سے ہر قسم کے خوف، وسوسوں اور خطرات کو پس پشت رکھتے ہوئے دہشت گردوں پر آخری وار کرنے کے لئے جون 2015میں شمالی وزیرستان میں ضرب عضب اپریشن شروع کردیا اور ایجنسی کی دشوار گزار اور مشکل وادی شوال سے فروری 2016 تک ملک میں دہشت کے زریعے اپنی حمکرانی قائم کرنے والوں کے مضبوط ٹھکانوں پر قبضہ کرکے اورانہیں سرحد پار دھکلیتے ہوئے اس فوجی کاروائی کے پہلے مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہی بے گھر ہونے والوں کی واپسی کا عمل شروع کردیا ہے۔

کہنے کو تو یہ باتیں آسان لگتی ہیں لیکن پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کی دعوت پرجب جنوبی و شمالی وزیرستان اور خصوصاً حال ہی میں دہشت گردوں کی آخری آماجگاہ وادی شوال سے انکے خاتمے کے بعد دورہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ پاک فوج نے وہ کام کر دکھایا جو ماضی میں دنیا کی بہترین افواج خصوصاً انگریز اپنی حکمرانی کے ایام میں ایسی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ پشاور سے جب بذریعہ ایم آئی ون سیون ہیلی کاپٹر شمالی وزیرستان کے لئے صفر شروع کیا تو یہاں درجہ حرارت44 سینٹی گریڈ تھا اور نو ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے جب دو گھنٹوں کی مسافت طے کرکے شوال پہنے تو وہاں درجہ حرات 17سینٹی گریڈتھا ۔ ہرطرف نظر آنے والے سبزے، گھنے جنگل اور چلغوزے کے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے باغات نے سفر کی تھکاوٹ کو سیکنڈوں میں ختم کردیا۔

9

شوال شمالی وزیرستان کی حدود میں واقع ہے اور اس کی سرحد ایک طرف جنوبی وزیرستان تو دوسری طرف افغانستان کے صوبے خوست اور پکتیا سے ملی ہوئی ہے۔ جس ہیلی کاپٹرمیں ہم سوار تھے اس نے ہیلی لینڈنگ مکی گھڑ میں کی جو شمالی اور جنوبی وزیرستان کا سرحدی علاقہ ہے اور یہاں سے پاک افغان سرحد پندرہ کلومیٹر ہے۔ یہاں پہاڑی چوٹی پر بریگیڈئیر شبیر نے ہمارا اسقبال کیا اور بریفنگ روم کی طرف لے کرگئے جہاں انہوں نے بتایا کہ مکی گھڑ کی چوٹی پر جب وہ قبضہ کررہے تھے تو اس دوران شدید جھڑپ ہوئی تھی جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے تھے اور یہاں انکی اعلیٰ قیادت رہائش پذیر تھی۔

5

8

انہوں نے بتایا کہ اس چوٹی پر قبضہ سے شوال پر پاک فوج کا کنٹرول مستحکم ہوا ۔ اپنی بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ شوال میں ملکی اورغیر ملکی دہشت گردوں کی اہم قیادت قیام پذیر تھی جن کی حفاظت اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز کررہے تھے ۔ انہوں نے اپنے بریفنگ جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ شوال آپریشن میں پاک فوج کے کپتان سمیت چھ اہلکار شہید ہوئے اور 26زخمی جبکہ دہشت گردوں کے سو سے ایک سو بیس افراد ہلاک اور 60زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں کی تعداد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے متضاد دعوے کئے جارہے ہیں جس کے تحت 1200سے ڈھائی ہزار کی تعداد بتائی جاتی ہے جن میں 50سے100غیر ملکی تھے ۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ ان غیر ملکیوں میں ازبک، چیچن،عرب اور افغان جنگجو شام تھے جبکہ کالعدم طالبان کے دو اہم گروپ شہریار اور سجنا کے جنگجو اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ بریگیڈئیر شبیرکا کہنا تھا کہ شوال سے منسلک پاک افغان سرحد کی لمبائی سو کلومیٹر اور یہاں زیرو لائن یعنی بفر زون پر بڑی تعداد میں فوجی چوکیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ اگر کوئی انفرادی طور پر بھی دراندازی کی کوشش کرے تھے تو اس کو ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شوال کا رقبہ 312 اسکوائر کلومیٹر ہے جو اب مکمل طور پر محفوظ بنا لیا گیا ہے۔

6

شوال آپریشن کی کامیابی میں آرمی کے ساتھ ساتھ پاک فضائیہ کا بھی اہم کردار تھا اور جیٹ طیاروں کے صحیح نشانے پر بمباری بھی دہشت گردوں کے بھاگنے کی وجہ بنی ہے اوردفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کاروائیوں کے بعد اب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ تاہم اس بات کو محسوس کیا جارہاہے کہ دہشت گرد سرحد پار افغانستان میں بیٹھ کر جو کاروائیاں کروارہے ہیں اور دہشت گردی کے منصوبے بنارہے ہیں وہ خطرے کی علامت ہے اور اس کے لئے دونوں ملکوں کی قیادت کی جانب سے مضبوط لائحہ عمل اوربہتر بارڈر مینیجمنٹ ضروری ہے۔

4

مکی گھڑ سے ہم بذریعہ ہیلی ڈبر میامی پہنچے جو شوال کا قدرے میدانی علاقہ ہے یہاں حیرت انگیز انکشافات دیکھنے کو ملے۔ اس علاقے میں کچی مٹی کے گھر ہیں اوران گھروں میں دہشت گردوں نے سرنگوں کی شکل میں محفوظ ٹھکانے قائم کئے ہوئے تھے ۔ ایسی ہی ایک کچے گھر میں ہمیں ایک سرنگ دکھائی گئی جو تین سو میٹر لمبی اور پندرہ سے پینتیس فٹ گہری تھی جس میں واش روم،رہائش کے لئے غاراور کنواں تھا۔ یہ سرنگ ڈرون حملوں سے بچاوٗ کے لئے بھی بنائی گئی تھی اور بتایا جاتا ہے کہ یہاں غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق القائدہ اور طالبان کے اہم رہنما روپوش رہے ہیں

3

2

یہی پر فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی امریکن ہموی جیپ، امریکن سٹینگر میزائل اور دیگر اسلحہ بھی دکھایا گیا جو دہشت گردوں کے زیر استعمال تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمیں معلوم ہوا کہ خودکش حملے کے لئے جیکٹس، بارودی سرنگ اور بم بھی تیار ہوتے تھے۔ اس علاقے کے دورے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مقامی ابادی دہشت گردوں کے ہاتھوں یر غمال بنی ہوئی تھی اور وہ خوف کے باعث ان کے سامنے بے بس تھے۔

1

یاد رہے کہ شوال ایک خوبصورت اور حسین وادی ہے اوراگر یہاں حالات معمول پر ہوں تو موسمِ گرما یہ علاقہ ایک اہم تفریحی مقام کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں