The news is by your side.

محققین نے علاج کے دوران ادویات کا استعمال کم کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا

فن لینڈ: طبی محققین نے علاج کے دوران ادویات کا استعمال کم کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر علاج کے دوران ادویات سے بچنا چاہتے ہیں تو سرسبز مقامات پر وقت گزاریں۔

آکوپیشنل اینڈ انوائرنمنٹل میڈیسن نامی جریدے میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق سرسبز جگہوں یعنی پارکوں اور باغات میں وقت گزارنے سے صحت بہتر ہوتی ہے، اور اس سے مختلف امراض میں تجویز کی جانے والی ادویات کے استعمال کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ تحقیقی مطالعہ فنش انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ ویلفیئر، فن لینڈ کی ٹیمپیر یونیورسٹی اور مشرقی فن لینڈ یونیورسٹی کے محققین نے کیا، جس میں انھوں نے ہیلسنکی، ایسپو اور وانتا کے تقریباً 16 ہزار رہائشیوں کو جائزے میں شامل کیا، جو مختلف امراض جیسا کہ اضطراب، بے خوابی، ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، اور دمہ کے لیے دوائیں استعمال کر رہے تھے۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ جو لوگ باقاعدگی سے پارکوں کا دورہ کرتے ہیں، وہ کم دوائیں استعمال کرتے ہیں، نہ صرف ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر کے لیے بلکہ بے چینی، بے خوابی اور یہاں تک کہ دمہ کے لیے بھی۔

واضح رہے کہ فطری ماحول کے صحت سے متعلق فوائد کے ثبوت اتنے واضح ہو چکے ہیں کہ کینیڈا کے چار صوبوں میں ڈاکٹروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو علاج کے طور پر قومی پارکوں کا مفت ٹکٹ دے سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو ہفتے میں تین سے چار بار پارک جار ہے تھے، ان لوگوں کے مقابلے میں جو شاذ و نادر ہی ایسا کرتے تھے، ان لوگوں میں اینٹی ڈپریسنٹ اور اینٹی اینگزائٹی (ذہنی پریشانیوں کی) ادویات استعمال کرنے کا امکان 33 فی صد کم پایا گیا، جب کہ ہائی بلڈ پریشر کے لیے ادویات کا استعمال اس گروپ میں 36 فی صد کم تھا، اور دمہ کی ادویات کے استعمال میں 26 فی صد کمی کے امکانات کو بھی نوٹ کیا گیا۔

اس ریسرچ سروے کے دوران محققین نے پایا کہ ہفتے میں ایک بار ہری بھری جگہوں پر جانا اتنی افادیت نہیں رکھتا تاہم ہفتے میں تین سے چار بار جانا دماغی صحت کے لیے بہت مفید رہتا ہے۔

محققین کے مطابق ادویات میں کمی سے مراد یہ ہے کہ سرسبز مقامات پر وقت گزارنے سے مرض میں کمی محسوس کی گئی اور صحت بہتر ہونے کی وجہ سے ان ادویات کی زائد مقدار لینے کی ضرروت نہیں رہی۔

یہ تحقیق دماغی صحت پر سرسبز مقامات میں حقیقت میں وقت گزارنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے اوراس سے حاصل کیے گئے شواہد بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں، جب کہ محققین کا دعویٰ ہے کہ صحت کی دیگر حالتوں، جیسے دمہ اور ہائی بلڈ پریشر میں بھی یہ اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں