وٹامن ڈی کا انسانی جسم میں ہڈیوں کو مضبوط رکھنے اور مدافعتی نظام کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا ہے، اسے حاصل کرنے کے صرف اہم چار ذرائع ہیں۔
وٹامن ڈی کی کمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم میں اس ضروری غذائیت کی ناکافی سطح ہوتی ہے تاکہ بہترین صحت کو برقرار رکھا جاسکے۔
جسم میں اس کی کمی کو پورا کرنے کیلیے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام شان رمضان میں ڈاکٹر عائشہ نے ناظرین کو اہم مشوروں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح وٹامن ڈی کی کمی کے اسباب، علامات اور مؤثر علاج کے ساتھ صحت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
یہ ضروری غذائیت کے ساتھ جسم کے متعدد افعال میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر جسم کو کیلشیم اور فاسفورس کو جذب کرنے اور استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے۔
دنیا بھر میں 50سے 70 فیصد انسانوں کے اندر اس وٹامن کی کمی پائی جاتی ہے اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی اس ضروری غذائیت کی مناسب سطح سے محروم ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ جسم میں کمی کو پورا کرنے کے لیے روزانہ صبح 15 سے 20 منٹ دھوپ میں بیٹھنا، مچھلی، انڈے کی زردی، فورٹیفائیڈ دودھ اور دہی کا استعمال لازمی کریں۔
انہوں نے بتایا کہ وٹامن ڈی کے حصول کیلیے صرف دھوپ سینکنا ہی کافی نہیں کیونکہ دھوپ صرف جسم کے ان حصوں پر لگتی ہے جو کھلے ہوئے ہوتے ہیں جیسے ہاتھ پاؤں چہرہ وغیرہ۔
انہوں نے بتایا کہ سانولی رنگت کی بہ نسبت گوری رنگت والے لوگوں میں دھوپ اچھی طرح جذب ہوتی ہے جس سے جسم کو وٹامن ڈی زیادہ مقدار میں ملتا ہے۔
ڈاکٹر عام طور پر اس حالت کی وضاحت کرتے ہیں کہ خون میں وٹامن ڈی کی سطح 20 این جی/ملی لیٹر سے کم ہے، جبکہ 21-29 این جی/ملی لیٹر کے درمیان کی سطح کو ناکافی سمجھا جاتا ہے۔
اس وٹامن کی شدید کمی کی صورت میں اپنے معالج کے مشورے سے وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس یا انجیکشن استعمال کرنا بھی ضروری ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


