اتوار, جون 7, 2026
اشتہار

وائس آف امریکا کے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری، عدالت نے بحالی کا حکم دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

نیویارک (18 مارچ 2026): امریکی جج نے حکومت کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج رائس سی لیمبرتھ نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سرکاری نیوز ایجنسی وائس آف امریکا کو بحال کرے، جسے تقریباً ایک سال قبل بند کر دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد سینکڑوں ملازمین جو انتظامی رخصت پر تھے، دوبارہ کام پر واپس آئیں گے۔ ڈسٹرکٹ کورٹ جج رائس سی لیمبرتھ نے یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے کہ وہ وائس آف امریکا کو دوبارہ نشر کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرے۔

تحریری فیصلے میں جج لیمبرتھ نے لکھا کہ مدعا علیہان نے اپنے فیصلے کے لیے کوئی اصولی بنیاد فراہم نہیں کی۔ وائس آف امریکا کی بیورو چیف اور اس مقدمے کی مدعی کا کہنا ہے کہ فیصلے پر بہت شکر گزار ہیں اور اپنے ادارے اور ساتھیوں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے بے تاب ہیں۔

چار سال قبل ’نیو کلیئر ہولو کاسٹ‘ ہو سکتا تھا، ٹرمپ

یاد رہے کہ یہ ادارہ اُس وقت سے محدود عملے کے ساتھ کام کر رہا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے بند کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل لیمبرتھ نے کہا تھا کہ کاری لیک، جنھیں ٹرمپ نے اس ادارے کی سربراہی کے لیے نامزد کیا تھا، کو وائس آف امریکا میں کیے گئے اقدامات کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔

منگل کے فیصلے میں، لیمبرتھ نے ان اقدامات کا جائزہ لیا جو ٹرمپ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں وائس آف امریکا کے 1,147 میں سے 1,042 ملازمین کو عملاً فارغ کر دیا گیا تھا۔ لیمبرتھ نے لکھا ’’مدعا علیہان اپنے فیصلے کے لیے کسی اصولی بنیاد کے قریب تر بھی کوئی جواز پیش نہیں کر سکے۔‘‘

وائس آف امریکا کی نگرانی کرنے والے ادارے کی جانب سے اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں