منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

روس ’’ویگنر‘‘ گروپ کے ذریعے یورپ میں افراتفری پھیلا رہا ہے، مغربی انٹیلیجنس

اشتہار

حیرت انگیز

(17 فروری 2026): مغربی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ روسی نجی عسکری تنظیم ویگنر گروپ کے لیے بھرتی کرنے والے سابق عناصر اب یورپ میں کریملن کے زیر اہتمام خفیہ کارروائیوں کا اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔

جون 2023 کی ناکام بغاوت اور بانی یوگنی پریگوژن کی ہلاکت کے بعد اس گروپ کی حیثیت غیر یقینی تھی، تاہم اس کا نیٹ ورک بدستور متحرک ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ویگنر کے نیٹ ورک کو نیٹو ممالک میں معاشی طور پر کمزور افراد کو بھرتی کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ویگنر کے وہ بھرتی کار جو روس کے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو یوکرین میں لڑنے پر آمادہ کرنے میں مہارت رکھتے تھے، انھیں اب ایک نیا کام سونپا گیا ہے، نیٹو کے رکن ممالک کی سرزمین پر پرتشدد کارروائیاں انجام دینے کے لیے معاشی طور پر کمزور یورپی شہریوں کو بھرتی کرنا۔

ویگنر کے کارندوں کی جانب سے ایجنٹوں کو مختلف کام سونپے گئے ہیں، جن میں سیاست دانوں کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا، یوکرین کے لیے امدادی سامان رکھنے والے گوداموں کو آگ لگانا اور خود کو نازی نظریات کے پرچارک کے طور پر پیش کرنا شامل ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں کریملن نے یورپ بھر میں خلل اندازی اور تخریب کاری کی مہم کو وسعت دی ہے، جس کا مقصد یوکرین کی حمایت میں مغربی طاقتوں کے عزم کو کمزور کرنا اور سماجی بے چینی کو ہوا دینا ہے۔

ایران پر مقبول ٹی وی سیریز بنانے والی اسرائیلی پروڈیوسر ہوٹل کمرے میں مردہ پائی گئی

رپورٹ کے مطابق روسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی جی آر یو اور فیڈرل سیکیورٹی سروس یورپ میں تخریب کاری کے لیے ’’قابلِ قربانی‘‘ ایجنٹ بھرتی کر رہےہیں۔ ویگنر کے پاس پروموٹرز اور بھرتی کاروں کا منظم نیٹ ورک موجود ہے جو سوشل میڈیا، خصوصاً ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے سرگرم ہے۔

پریگوژن ماضی میں سینٹ پیٹرزبرگ میں قائم انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کے سربراہ بھی رہے، جس پر مغربی ممالک میں غلط معلومات پھیلانے کا الزام رہا ہے۔ 21 سالہ برطانوی نوجوان ڈیلن ارل کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کیا گیا، مارچ 2024 میں اس نے مشرقی لندن میں ایک گودام کو آگ لگائی اور بعد ازاں 23 سال قید کی سزا پائی۔ جج شیما گرار نے فیصلے میں کہا کہ انٹرنیٹ کے خفیہ نیٹ ورکس نے آسان پیسے کے لالچ میں نوجوانوں کو انتہا پسندی اور غداری پر آمادہ کیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں