چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی آج 32ویں برسی منائی جارہی ہے -
The news is by your side.

Advertisement

چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی آج 32ویں برسی منائی جارہی ہے

دو دہائیوں تک پاکستان فلم انڈسٹری پرا راج کرنے والے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی آج بتیسویں برسی منائی جارہی ہے.

پاکستان فلم انڈسٹری کے چاکلیٹی ہیرو وحید مراد دو اکتوبر انیس سو اڑتیس کو سیالکوٹ مِیں پیدا ہوئے، وحید مراد نے ایس ایم آرٹس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا.

پروڈیوسر کے طور پر 1960 میں وحید مراد نے فلم ’’انسان بدلتا ہے‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

وحید مراد نے 1961 میں فلم ’اولاد‘ سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا، جس میں انہوں سپورٹنگ ایکٹر کا رول ادا کیا، وحید مراد نے’’ اولاد‘‘ سے لے کر’’ زلزلہ‘‘ تک کل ایک سو پچیس فلموں میں کام کیا اور ان کا ہر کردار جاندار رہا، جن میں آٹھ پنجابی اور ایک پشتو فلم بھی شامل ہے۔

اُن کی شادی سلمیٰ بیگم سے 17 ستمبر 1964ء میں ہوئی۔

“کوکو کورینا”’’ اکیلے نہ جانا‘‘ اور دیگر گانوں نے وحید مراد کو لازوال شہرت دی، جو آج بھی مشہور ہیں.

وحید مراد کو رومانوی کردار بہترین طریقے سے پیش کرنے پر انہیں چاکلیٹی ہیرو بھی کہا جاتا ہے.

اُن کی فلم ’’رشتہ ہے پیار کا‘‘ پاکستان کی وہ پہلی فلم ہے جس کی فلم بندی سب سے پہلے بیرونِ ملک میں کی گئی۔ پہلی رنگین فلم ’’تم ہی ہو محبوب میرے‘‘ تھی۔


وحید مراد کی بہترین فلموں میں ’’ دل میرا دھڑکن تیری، ہیرا اور پتھر، ارمان، عندلیب، مستانہ ماہی، انسانیت، دیور بھابھی اور دیگر ہیں، ‘ہیرا اور پتھر’ وحید مراد کی پہلی فلم تھی، جس میں انہوں نے بطور ہیرو کام کیا اور اس فلم کے لیے انہیں ‘نگار ایوارڈ’ بھی ملا۔

انہیں 1964 میں ہیرا اور پتھر، ارمان (1966)، عندلیب (1969) اور مستانہ ماہی (1971) میں شاندار اداکاری پر نگار ایوارڈ جبکہ 2002 میں لائف ٹائم لیجنڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وحید مراد ایک حادثے کی وجہ سے چہرہ خراب ہونے اور پے در پے کئی فلموں کی ناکامی سے دل برداشتہ ہو گئے اور تئیس نومبر انیس سو تیراسی میں خالق حقیقی سے جا ملے.

وحید مراد کی وفات کے ستائیس سال بعد نومبر2010 میں انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں