site
stats
پاکستان

اثاثہ جات ریفرنس : جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ

Ishaq Dar

اسلام آباد : سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ 1992 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے مطابق کل اثاثے 9.1 ملین روپے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی مالیت 09-2008 میں 831.6 ملین روپے تک پہنچ گئی، اسحاق ڈارکے اثاثوں میں اسی عرصے میں 91 گنا اضافہ ہوا۔

واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ جےآئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کوحتمی رپورٹ پیش کی، اسحاق ڈارسمیت مختلف شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈارکیس تک محدود رہنا ہے، جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ جےآئی ٹی نے ایس ای سی پی، بینکوں، ایف بی آر، الیکشن کمیشن سے ریکارڈ لیا۔

جے آئی سربراہ واجد ضیا نے اسحاق ڈارکی ویلتھ اسٹیٹمنٹ عدالت میں جمع کرا دی، ویلتھ اسٹیٹمنٹ مختلف ادوارپرمبنی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈاراثاثوں کی دستاویزات یا ثبوت دینے میں ناکام رہے، اثاثوں پررپورٹ 10جولائی 2017 کوسپریم کورٹ میں دی۔

واجد ضیا نے کہا کہ اسحاق ڈاربرطانوی کمپنی میں سرمایہ کاری کی وضاحت نہ دے سکے، 2008 میں4.9 ملین برطانوی پاؤنڈ بیٹے کوقرض دیےلیکن بیٹے کا نام ظاہرنہیں کیا گیا۔

پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 14 فروری تک کے لیے ملتوی ہوگئی۔

اس سے قبل آج صبح عدالت میں سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے استفسار کیا تھا کہ واجد ضیا نہیں آئے ؟ جس پر پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ انہیں بلایا ہوا ہے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا تھا کہ آج پھر تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کروالیں جس پر پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ جی بالکل آج ہی واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کرائیں گے، کل تو بہت رش ہوگا۔

معزز جج نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا، جے آئی ٹی نے بھی وقت پرتحقیقات کیں ، ہم سماعت میں تاخیر کریں یہ مناسب نہیں۔


جےآئی ٹی رپورٹ کا اصل ریکارڈ میرے پاس موجود نہیں‘ واجد ضیا


خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر اصل جے آئی ٹی رپورٹ نہ ہونے کے باعث واجد ضیا کا بیان قلمبند نہیں ہوسکا تھا۔

واضح رہے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں سابق وزیرخزانہ کے خلاف 28 میں سے 27 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top