The news is by your side.

Advertisement

کیا واک تھرو ڈس انفیکشن گیٹس کا استعمال کارآمد ہے ؟؟

اسلام آباد : عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر واک تھرو ڈس انفیکشن گیٹس کا استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ ماہرین صحت نے اسے پیسے کا ضیاع اور غیر مؤثر قرا دیا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے مسلسل پھیلاؤ سے صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جارہی ہے، اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر واک تھرو ڈس انفیکشن گیٹس کا استعمال بڑھ گیا ہے، پی ایم اے نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ تمام نجی اور سرکاری اداروں میں اس کی تنصیب یقینی بنائے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر انفیکشن ڈیسیز ڈاکٹر ڈاکٹر شوبھا لکشمی نے واک تھرو ڈس انفیکشن گیٹس سے متعلق کہا کہ یہ گیٹس اور ان میں استعمال ہونے والا کیمیکل کورونا وائرس کو ختم کنے کی صلاحیت نہیں رکھتا،

انہوں نے کہا کہ وائرس کو ختم کرنے کیلئے کم از کم بیس سے تیس سیکنڈ کا مقررہ وقت چاہیے ہوتا ہے جو کہ اس گیٹ سے گزرنے میں نہیں ہوتا، اس کے علاوہ اس میں جو محلول استعمال ہورہا ہے وہ کس معیار کا ہے ؟ دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی بھی وائرس کو مارنے کیلئے 70فیصد الکحل یا کلورین استعمال کرنا ہوتا ہے اور وہ بھی مقررہ وقت کیلئے تاکہ جراثیم کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت، پاکستان میڈیکل مائیکرو بائیولوجی اور دیگر ادارے بھی واک تھرو ڈس انفیکشن گیٹس کی تنصیب تجویز نہیں کرتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں